جنوبی وزیرستان میں دھماکہ، فرنٹیئر کور کے سات اہلکار زخمی

Image caption مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی بھی شروع کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں سکیورٹی فورسز نے منگل کو ایک بڑی کارروائی کی ہے جس میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں جبکہ جنوبی وزیرستان ایجنسی میں فرنٹیئر کور کے قافلے کے قریب دھماکے میں سات اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب کرم ایجنسی میں افغانستان کی جانب سے راکٹ داغے گئے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقے دتہ خیل اور شوال کے مختلف مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ بمباری خرانگئی، الوڑہ، مائزر اور شوال کے مقامات پر کی گئی ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس کارروائی میں 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں لیکن مقامی سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائی بھی شروع کی ہے۔ اطلاعات مطابق ایک وقفے کے بعد سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان ایجنسی میں بڑی کارروائی شروع کی ہے۔

ادھر شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں کو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب جون سال 2014 میں شروع کیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

ان متاثرین کی واپسی کا سلسلہ گذشتہ سال مارچ میں شروع کیا گیا تھا لیکن اب تک ان کی واپسی کا عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا ہے کہ ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس کے اہلکار ایجنسی ہیڈ کوارٹر وانا سے راشن لے کر تحصیل تیارزہ کے قلعے کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ کنڈ سرائے کے موڑ کے قریب پیش آیا۔

Image caption شمالی وزیرستان کے دیگر علاقوں کو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے

اس کے علاوہ کرم ایجنسی میں افغانستان کی جانب سے پاکستان کی حدود میں پانچ راکٹ پھینکے گئے ہیں۔ یہ راکٹ اپر کرم ایجنسی میں کیماتو چیک پوسٹ کے قریب گرے ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ اس حملے میں چیک پوسٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی ہے لیکن کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔

کرم ایجنسی میں گذشتہ روز جاسوس طیارے ڈرون سے بھی حملہ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گذشتہ چند روز سے ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جہاں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں چند روز قبل خاصہ دار فورس کے نو اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد گذشتہ روز مہمند ایجنسی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھ ۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں بھی بنوں میرانشاہ روڈ پر گذشتہ روز کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں