’افغانستان میں امن پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PM Office
Image caption سپیکر عبدالرؤف ابراہیم نے افغان مہاجرین کی 30 سال سے میزبانی کو سراہتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا

پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ دہشت گرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں اور دہشت گردی سے نجات کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد میں بدھ کو افغان اسمبلی کے سپیکر عبدالرؤف ابراہیم سے ملاقات کے دوران محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

وزیراعظم آفس کی طرف کی جاری کردہ بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ افغانوں کے اپنے طور پر شروع کردہ اور ان ہی کی سرپرستی میں ہونے والے امن عمل کے ذریعے امن اور مفاہمت کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ اور مسلسل کوششوں سے افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ روز کابل میں ہونے والے چہار فریقی اجلاس کے شرکا نے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا

افغان اسمبلی کے سپیکر عبدالرؤف ابراہیم نے افغان مہاجرین کی 30 سال سے میزبانی کو سراہتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز کابل میں ہونے والے چہار فریقی اجلاس کے شرکا نے افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا اور اپنا اگلا اجلاس کابل حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے فوراً بلانے کا فیصلہ کیا۔

چاروں ملکوں کے نمائندوں نے اسلام آباد میں فروری کی چھ تاریخ کو ہونے والی اپنی آخری ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا فروری کے اختتام تک وہ امن کے عمل کو بحال کرنے کے لیے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کریں گے۔

اس سے قبل طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات طالبان رہنما ملا محمد عمر کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد معطل ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں