’اتنے زیادہ بچےسکولوں سے باہر باعثِ ندامت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ دو برسوں میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے وفاقی وزیرِ تعلیم و تربیت بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ جب تک قومی سطح پر مردم شماری نہیں ہوتی، تعلیم کے اعداد وشمار کا بنیاد اندازوں پر ہوگی۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزارتِ تعلیم اور تعلیمی منصوبہ بندی کی اکیڈمی ایپام کی رپورٹ پاکستان ایجوکیشن سٹیٹسٹکس کے موقع پر کی۔

اس سے پہلے یہ رپورٹ سنہ 2013 میں منظرِ عام پر آئی تھی اور حالیہ رپورٹ سنہ 2014 اور سنہ 2015 کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پانچ سے 16 سال کی عمر کے تقریباً نصف بچے سکول میں نہیں پڑھتے اور سکول سے باہر بچوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ تاہم گذشتہ دو برسوں میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد ڈھائی کروڑ سے کم ہو کر دو کروڑ 40 لاکھ ہوگئی ہے۔

پاکستان میں 47 فیصد بچے سکول میں نہیں پڑھتے، اس کے باوجود کہ گذشتہ دو برسوں میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کی شرح 25 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے۔

وفاقی وزیرِ تعلیم بلیغ الرحمان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب مردم شماری ہوگی تو زیادہ درست اعد وشمار سامنے لائے جاسکیں گے۔ کچھ مسائل ہیں جن کو سلجھانے کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔‘

وزارتِ تعلیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول میں سہولیات کی دستیابی کے لحاظ سے بھی بہتری آئی ہے۔ سنہ 2013 میں صرف 56 فیصد سکولوں میں چاردیواری موجود تھی، جبکہ اس سال 70 فیصد سکولوں میں یہ سہولت اب پائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکول چھوڑنے والے لڑکوں کی تعداد کے مقابلے میں سکول چھوڑنے والی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے

وزیرِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس بہتری کی ایک وجہ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ ہے۔ ’ہمارے تمام صوبے 25 فیصد یا اس سے بھی زائد بجٹ کا حصہ تعلیم کے لیے مختص کر رہے ہیں اور وفاقی سطح پر بھی ہم نے اپنے فنڈ تقریباً دگنے کر دیے ہیں۔‘

تاہم رپورٹ کے مطابق سکول چھوڑنے والے لڑکوں کی تعداد کے مقابلے میں سکول چھوڑنے والی لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پانچ سے 16 عمر کی بچیوں میں سے آدھی سے زیادہ سکول سے باہر ہیں جبکہ 43 فیصد لڑکے۔

وزیرِ تعلیم بلیغ الرحمان نے بتایا کہ ’یہ ہمارے لیے بہت باعثِ تشویش بھی ہے اور باعثِ ندامت بھی کہ اتنے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہے۔ لیکن یہ کوئی اچانک نہیں ہوا۔ یہ بہت سالوں سے حالات تھے اور اب بہتر ہو رہے ہیں۔‘

تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کا کہنا ہے کہ اگر بہتری آئی ہے تو اس کی بڑی وجہ میڈیا کا دباؤ ہے۔ ’تعلیم کا مسئلہ صرف حکومتی عمل سے ٹھیک ہو گا اور پچھلے کچھ سالوں میں میڈیا جب تعلیم اور تعلیمی اداروں کی خامیوں کو سامنے لاتا رہا ہے تو حکومت پر دباؤ بڑھا ہے۔‘

رپورٹ کے مطابق صوبوں اور علاقوں میں بھی واضح فرق ہے۔ بلوچستان میں 70 فیصد بچے سکول میں نہیں پڑھتے، سندھ میں 56 فیصد، فاٹا میں 60 فیصد اور گلگت بلتستان میں 50 فیصد۔ صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے زیادہ تر بچے سکول پڑھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیرِ تعلیم نے اعتراف کیا کہ مڈل سکول کی سطح سے آگے سرکاری سکولوں کے معیار پر مزید کام کرنے کے ضرورت ہے

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 80 فیصد سرکاری سکول پرائمری سطح کے ہیں اور صرف ایک فیصد ہائر سیکنڈری۔ اس کے علاوہ 29 فیصد سرکاری سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔

وزیرِ تعلیم نے اعتراف کیا کہ مڈل سکول کی سطح سے آگے سرکاری سکولوں کے معیار پر مزید کام کرنے کے ضرورت ہے۔

’زیادہ تر بچے پانچویں جماعت کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں جس میں پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کو قائم کرنا اور نصاب میں بہتری لانا ہے، جیسے کے نفرت انگیز مواد کو نصاب سے نکالنا ایک جز ہے۔‘

الف اعلان کے مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بچوں کے سکول کے داخلوں کی رفتار نہ صرف تیز کریں بلکہ ساتھ ساتھ تعلیمی میعار کو جلد بہتر کریں۔ ’یہ اس لیے ضروری ہے کہ نجی سکولوں پر انحصار کم ہو گا اور اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہر پاکستانی بچے کو ایک جیسے مواقعے فراہم ہوں گے۔‘

گذشتہ پانچ برسوں میں شرحِ داخلہ میں بدتریج بہتری تو آرہی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی پانچویں جماعت کے بعد سکول چھوڑنے کی 69 فیصد شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

اسی بارے میں