طالبہ کی خودکشی، پرنسپل پر قتل کا مقدمہ

Image caption بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ نےثاقبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی قائم کی تھی

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے مسلم باغ میں خودکشی کرنے والی طالبہ کے قتل کا مقدمہ اس کے کالج کی پرنسپل کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر ثاقبہ کے بھائی کی مدعیت میں جمعرات کی شب درج کیا گیا اور اس میں پرنسپل کے علاوہ متعلقہ کلرک کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

گرلز کالج مسلم باغ میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ ثاقبہ کاکڑ نے دو ہفتے قبل خودکشی کی تھی اور اس کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس اقدام کی وجہ کالج کی پرنسپل کا رویہ تھا۔

ثاقبہ کاکڑ کے رشتہ داروں اور ساتھی طالبات نے اس مقدمے کے اندراج ، خود کشی کی محرک بننے والی وجوہات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام اور کالج کو ثاقبہ کے نام سے منسوب کرنے کے لیے گزشتہ روز ہائیکورٹ کے باہر دھرنا دیا تھا۔

بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس شکیل احمد بلوچ پر مشتمل بینچ نے اس سلسلے میں جمعرات کو ایک درخواست کی سماعت کی اور ایس ایچ او مسلم باغ کو طالبہ کے رشتہ داروں کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

Image caption بلوچستان ہائیکورٹ نے ایس ایچ او مسلم باغ کو طالبہ کے رشتہ داروں کی درخواست پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا

اس سے قبل ثاقبہ کے رشتہ داروں نے مقامی تھانے میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔

ثاقبہ کی بہن عاصمہ حکیم کا کہنا ہے کہ کالج میں اساتذہ کے حوالے سے جو مسائل درپیش تھے انھیں حل کرانے کے لیے ثاقبہ نے ساتھی طالبات کے ہمراہ چند ماہ قبل کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر احتجاج کیا تھا جس کی وجہ سے کالج انتظامیہ نے ثاقبہ کو ’انتقام کا نشانہ بنایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ثاقبہ کو کالج سے نکال دیا گیا اور بعد میں امتحان کے لیے اس کا امتحانی فارم نہیں بھیجاگیا جس کے باعث وہ دلبرداشتہ ہو کر خود کشی پر مجبور ہوئی۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ نےثاقبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بھی قائم کی تھی اور کالج کی پرنسپل اور کلرک کو تا حکمِ ثانی معطل بھی کر دیا تھا۔

اسی بارے میں