کوہلی کے مداح کی ضمانت منظور

پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں سیشن عدالت نے ویراٹ کوہلی کے مداح عمر دراز کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

پولیس نے 25 جنوری کو اوکاڑہ کے نواحی گاوں چون بٹہ دو ایل کے رہائشی عمر دارز کو بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ٹی 20 کرکٹ میچ میں ویراٹ کوہلی کے شاندار کھیل اور اس کے نتیجے میں بھارت کی فتح کی خوشی میں اپنے مکان پر بھارت کا جھنڈا لہرانے پر حراست میں لیا تھا۔

عمردراز پر پولیس نے نقصِ امن کی دفعہ 16 ایم پی او اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 123 اے کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 10 برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ملزم کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی کرکٹر ویراٹ کوہلی کا مداح ہے اور ان کی شاندار کارگردگی کی خوشی میں ہی اس نے بھارت کا جھنڈا اپنے گھر پر لہرایا تھا، اس میں بدنیتی کا عنصر شامل نہیں تھا۔ جو بھی ہوا وہ لاعلمی اور انجانے میں ہوا۔

عمر دارز کے وکیل رضوان حیدر نے بی بی سی کو بتایا کہ اوکاڑہ کے ایڈیشنل سیشن جج اسد اللہ سراج نے 50,000 روپے کے مچلکوں کے عوض عمر دارز کی ضمانت کی درخواست کی منطوری دی۔

عمر دراز ابھی حوالات میں ہی ہیں اور مچلکے جمع ہونے کے بعد ہی انھیں رہائی ملے گی۔

عمردراز کے وکیل رضوان حیدر کا کہنا ہے ’میرے موکل کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں اور ایک بے بنیاد مفروضے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم ان کی ضمانت کی درخواست منظور ہوگئی ہے۔‘

اس سے پہلے 18 فروری کو اوکاڑہ کی ایک مقامی عدالت نے عمر دراز کی ضمانت کی درخواست کو خارج کردیا تھا جس کے بعد ان کے خاندان اور وکلا نے سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا۔

پولیس کے مطابق 22 سالہ عمر دراز پیشے کے اعتبار سے درزی ہے۔ وہ نہ صرف کرکٹ کا اچھا کھلاڑی اور ویراٹ کوہلی کا مداح ہے بلکہ ان سے مشابہت بھی رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے کمرے میں کوہلی کی تصاویر بھی لگا رکھی ہیں۔

عمر دارز کے بھائی عارف علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ضمانت کی منظوری کے بعد وہ مطمئن ہیں۔ ان کے بھائی نے ملکی سلامتی کے خلاف کوئی کام نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ایک مہینہ گذر گیا، ہم نے اپنے بھائی کی شکل تک نہیں دیکھی۔ میرے والدین اور گھر والے سب پریشان ہیں۔ ہم تعلیم یافتہ نہیں ہیں نہ ہی ہمیں ان چیزوں کی سمجھ بوجھ ہے۔ عمر دراز سے جو بھی ہوا وہ نادانی میں ہوا۔‘

عمر دراز کے وکیل رضوان حیدر کا کہنا تھا ’جب کسی پر الزام لگایا جاتا ہے تو پولیس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے ثبوت اکٹھے کرے لیکن پولیس فائل کے ساتھ کسی قسم کے ثبوت نہیں تھے اور نہ ہی گواہان کے دستخط تھے۔ پولیس خود ہی اس میں مدعی بنی اور خود ہی عمر کو گناہ گار بنا کے چالان بنا کر عدالت میں پیش کر دیا۔ ہم اسی کو بنیاد بنا کر سیشن عدالت میں ایک اور درخواست دائر کریں گے۔‘

اسی بارے میں