بلوچستان: ضلع آوران سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ضلع آواران سے پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی رہی ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

آواران میں انتظامیہ کے ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تینوں لاشیں ضلع کی تحصیل مشکے سے برآمد کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق تینوں افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیاگیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی ان کو ہلاک کرنے کے محرکات تاحال معلوم ہوسکے ہیں۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے مقامی میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے افراد بلوچ ہیں۔

بیان میں ان افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ریاستی اداروں پر عائد کیا گیا ہے ۔

بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے ماضی میں بھی اس طرح کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں لیکن سرکاری حکام ان کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے رہے ہیں۔

اس ضلع سے پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوتی رہی ہیں۔

بلوچستان سے 2008ء میں تشددزدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ شروع ہواتھا۔

محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان کے مخلتف علاقوں سے 129افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2010 سے اب تک نو سو سے زائد افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

تاہم لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے برآمد ہونے والی لاشوں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے