شوال میں جھڑپ 19 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب حکام کے مطابق شدت پسند اس علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں شوال کے مقام پر حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 19 مسلح شدت پسند اور ایک افسر سمیت چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے سیکیورٹی فورسز کی شوال کے علاقے میں زمینی کارروائی میں پیش رفت جاری ہے اور سنیچر کو پاک افغان سرحد کے قریب منگروٹی کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس جھڑپ میں 19 شدت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے ایک افسر سمیت چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب حکام کے مطابق شدت پسند اس علاقے سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے انھیں گھیرے میں لے لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس میں فوجی حکام کے مطابق بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں

ایسی اطلاعات ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے ایک وقفے کے بعد شوال کے علاقے میں زمینی کارروائی چند روز پہلے شروع کی ہے۔ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی اس زمینی کارروائی شروع ہو نے کے بعد شوال کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے اس آخری معرکے کو تیز کیا جائے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا جس میں فوجی حکام کے مطابق بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اب تک شمالی وزیرستان کے بڑے حصے کو شدت پسندوں سے صاف کر دیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن کی محفوظ علاقوں کو واپسی کا عمل جاری ہے۔ ادھر ایسی اطلاعات ہیں کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان سجنا گروپ کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو فون پر بتایا ہے کہ اس جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے بھاری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ ان کا ٹینک بھی تباہ کیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں