لواری ٹاپ پر سنو جیپ ریلی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ سنو جیپ ریلی ایسی ٹاپ پر منعقد کی گئی جس کے شمال میں چترال اور جنوب میں اپر دیر کا علاقے ہے

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار لواری ٹاپ پر سنو جیپ ریلی کا انعقاد کیا گیا ہے۔

اس ریلی میں ملک بھر سے اکتیس ماہر ڈرائیوروں نے حصہ لیا اور کھٹن راستوں پر ڈرائیورں نے جیت کے لیے بھر پور زور لگایا اور اونچی اونچی ڈھلوانوں پرشاندار اور برق رفتار ی سے ڈرائیونگ کرتے نظر آئے۔

یہ ایک روزہ ریلی صوبائی حکومت اور پاک فوج کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی۔ اس ریلی کا کل فاصلہ 20 اعشاریہ نو کلومیٹر رکھا گیا تھا۔

ریلی کے لیے ٹریک کا انتخاب لواری ٹنل کے قریب کیاگیا تھا جو سطح سمندر سے 10230 فٹ کی بلندی پر ہے۔

یہ سنو جیپ ریلی ایسی ٹاپ پر منعقد کی گئی جس کے شمال میں چترال اور جنوب میں اپر دیر کا علاقہ ہے۔ لواری ٹاپ چترال کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ریلی صوبائی حکومت اور پاک فوج کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی

خیال رہے کہ ہر سال موسم سرما میں یہ راستہ شدید برف باری کے باعث ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند رہتا ہے تاہم رواں سال لواری ٹاپ کھلا رہنے پر لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جس سے دیر اور چترال کے مقامی لوگوں کے علاوہ چترال آنے والے سیاح بھی سفری مشکلات سے بچ گئے ہیں۔

اس لطف انگیز ریلی میں شریک دیر لوئر کے مقامی ڈرائیور ڈاکٹر ندیم نے بتایا کہ ’اس سنو جیپ ریلی سے اس بات کو تقویت ملے گی کہ یہ علاقہ سیاحوں کے لیے محفوظ اور پر امن ہے اور نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی اس خوبصورت خطے سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔‘

جیپ ریلی کو دیکھنے کے لیے مقامی لوگوں کے علاوہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر ایک مقامی سیاح سلیم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس قسم کے مقابلوں سے علاقے میں نہ صرف سیاحت کے فروغ کے نئے راستے کھول جائینگے بلکہ دنیا کو بھی اس علاقے کے خوبصورتی کے حوالے سے پیغام ملےگا۔‘

اسی بارے میں