’دہشت گردی نہیں بھارت سے عدم توازن سب سے بڑا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سرتاج عزیز ان دنوں واشنگٹن کے دورے پر ہیں

پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ سٹریٹیجک اور روایتی عدم توازن ہے۔

انھوں نے یہ بات منگل کو امریکہ میں ڈیفنس رائٹرز گروپ کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی ہمارا اپنا اندرونی مسئلہ ہے۔ یہ افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر ہونے والی دہشت گردی ہے جو ملک کے لیے دوسرا بڑا خطرہ ہے اور امید ہے کہ ہم اس پر آئندہ چند برس میں قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں سب سے بڑا خطرہ بھارت کے ساتھ سٹریٹیجک اور روایتی (عسکری) عدم توازن ہے اور دہشت گردی کا مسئلہ اس کے بعد آتا ہے۔‘

سرتاج عزیز نے امریکہ کی اس خواہش کو بھی مسترد کر دیا کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں کٹوتی کرے اور اس میں اضافے کا عمل بند کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرتاج عزیز نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کی اور ایک مشترکہ بیان جاری کیا گيا

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر بھارت ایسا کرتا ہے تب ہی ہم اس بارے میں سوچیں گے اور اگر بھارت یہ نہیں کرتا تو ہم کیسے یہ پابندی لگا سکتے ہیں؟‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے روس اور امریکہ کے جوہری اسلحے میں تخفیف کی مثال دیتے ہوئے پاکستان سے کہا تھا کہ وہ حقائق کے پیش نظر اپنی جوہری پالیسی کا جائزہ لے۔

اسی تقریب کے دوران سرتاج عزیز نے یہ عندیہ دیا کہ رواں ماہ امریکہ میں ہونے والی جوہری سکیورٹی سربراہی کانفرنس کے دوران بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ملاقات بھی ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’دونوں کی ملاقات کے امکانات ہیں۔۔۔ جب وہ یہاں (واشنگٹن ڈی سی) میں ہوں گے تو وہ ایک دوسرے سے ملیں گے۔ وہاں کوئی باضابطہ میٹنگ ہوگی یا نہیں اس کا علم نہیں لیکن مواقع ضرور ہیں۔‘

خیال رہے کہ سرتاج عزیز ان دنوں امریکہ اور پاکستان کے درمیان چھٹے سٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کے لیے واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔

اسی بارے میں