غلیل ایک کھلونا بھی ہتھیار بھی

Image caption دن میں اوسطاً 1500 غلیل مارکیٹ میں تیار کیے جاتے ہیں

ماضی میں پرندوں کے شکار کرنے اور بچوں کے لیے کھلونا یا اہم ہتھیار سمجھی جانے والی غلیل اب بیشتر شہروں میں ناپید ہے لیکن یہ کھلونا اب بھی پشاور میں بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔

لکڑی کا دستہ اور ربڑ کے دو پتلے پتلے ٹکڑوں کو اِس سے جوڑ کر غلیل بنائی جاتی ہے۔

اس غلیل سے ماضی میں بچے اور نوجوان پرندوں کا شکار کرتے یا نشانہ بازی کرتے نظر آتے تھے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جہاں بڑے لوگ اسلحہ لے کر گھومتے ہیں وہاں بچے اور نوجوان گلے میں یا ہاتھ میں غلیل لیے نظر آتے تھے۔

یہ منظر اب قبائلی علاقوں اور ملک دیگر حصوں میں کم ہی نظر آتا ہے لیکن پشاور کے اندورن شہر کی ایک مارکیٹ میں اب بھی بڑے پیمانے پر لوگ غلیل تیار کرتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نمکنڈی میں واقع غلیل مارکیٹ ملک کی واحد مارکیٹ ہے جہاں غلیل پورے ملک اور افغانستان برآمد کی جاتی ہے۔

نوشیروان پچھلے 40 سال سے غلیل سازی کے کام سے منسلک ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’آٹھ سے دس سال پہلے غلیل کی مانگ کافی زیادہ تھی لیکن دہشتگردی کی وجہ سے جہاں دیگر کاروبار متاثر ہوئے وہیں غلیل کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔‘

’غلیل کی مانگ قبائلی علاقوں اور پہاڑی علاقوں میں زیادہ ہوتی تھی جب سے آپریشن شروع ہوئے اور لوگ نقل مکانی کرنے لگے تھے اس سے ہمارے کاروبار کو بھی کافی نقصان ہوا۔‘

ان کے مطابق پہاڑی علاقوں مالاکنڈ ایجنسی اور قبائلی علاقہ جات میں متاثرین کی واپسی سے ان علاقوں میں دوبارہ غلیل کی مانگ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

Image caption پشاور کے علاقے نمک منڈی میں کوئی 8 سے 10 غلیل سازی کی دکانیں ہیں

پشاور کے علاقے نمک منڈی میں کوئی 8 سے 10 غلیل سازی کی دکانیں ہیں جہاں درجنوں کے حساب سے مزدور غلیل بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔

سال کے پہلے چار مہینے میں غلیل کی کافی ڈیمانڈ ہوتی ہے جبکہ باقی آٹھ ماہ کے دوران ڈیمانڈ میں کافی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ دن میں اوسطاً 1500 غلیل مارکیٹ میں تیار کیے جاتے ہیں۔

غلیل نہ صرف پہاڑی علاقے بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد جیسے شہروں میں بھی غلیل کافی مقبول ہے۔

اس جدید دور میں جہاں شکار کیلئے نت نئے ہتھیار کافی مہنگے داموں ملتے ہیں ایسے میں 20 روپے سے لیکر 1000 روپے تک کی غلیل بچوں اور نوجوانوں کے لیے سستا اور آسان کھلونا سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ دنوں میں جب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں تعینات ہوئے تو یہاں پشاور کی کارخانو مارکیٹ میں امریکی اور چائنہ ساختہ غلیل بھی فروخت ہوتے ہوئے دیکھے گئے جن کا دستہ لوہے کا اور اعلی معیار کا ربڑ استعمال کیا گیا ہے۔

Image caption غلیل نہ صرف پہاڑی علاقے بلکہ پاکستان کے دیگر علاقوں سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد جیسے شہروں میں بھی غلیل کافی مقبول ہے

اسی بارے میں