تھر میں قحط: عدالتی کمیشن تحلیل کر دیاگیا

Image caption فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو گذارش کی کہ چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے تھر میں قحط کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کمیشن تحلیل کردیا گیا ہے۔ عدالت نے غیر جانبدرانہ کمیشن کے لیے 17 مارچ تک نام طلب کرلیے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ میں تھر پارکر میں خوراک و علاج کی سہولیات کے فقدان، بچوں کی ہلاکت اور سندھ حکومت کی ریلیف کارروائیوں کی نگرانی کے لیے غیر جانبدارانہ کمیشن کے قیام کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم پائلر کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

پائلر کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے تھر کی صورتحال پر سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل غیر جانبدارنہ کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دے کر سندھ حکومت سے جواب طلب کیا تھا۔ لیکن سندھ حکومت نے جواب دائر کرنے کے بجائے جسٹس ریٹائرڈ غلام سرور کورائی کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ جس کو عدالت معطل کرچکی ہے۔

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت سے درخواست کی کہ چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ جس پر عدالت نے سندھ کے چیف سیکریٹری صدیق میمن کو طلب کرلیا۔

چیف سیکریٹری صدیق میمن نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت تھر کی صورتحال سے غافل نہیں ہے، تھر میں لوگوں کو گندم کی فراہمی کے ساتھ صحت، خوراک کی کمی کو ختم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، بند اور غیر فعال صحت مراکز بحال کرنے کے ساتھ اضافی ڈاکٹروں کو بھی تھر میں تعینات کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ان سے سوال کیا کہ تھر کی صورتحال کے بارے میں سندھ سرکار نے کمیشن کیوں تشکیل دیا ہے جس کو عدالت پہلے معطل کرچکی ہے۔ جس پر چیف سیکریٹری نے بتایا کہ جسٹس غلام سرور کورائی نے عدالت کے فیصلے کی وجہ سے انکوائری کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد سندھ حکومت نے وہ کمیشن ختم کردیا تھا اب عدالت کے احکامات کی روشنی میں نیا کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔

چیف سیکریٹری نے بتایا کہ کمیشن کے لیے مجوزہ نام عدالت میں پیش کیے جائیں گے اور عدالت کی منظوری کے بعد حکومت کمیشن کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گی۔ عدالت نے حکم جاری کیا کہ 17 مارچ تک کمیشن کے ممبران کے نام عدالت میں پیش کیے جائیں۔

یاد رہے کہ تھر میں گزشتہ تین سالوں سے مسلسل قحط سالی کی وجہ سے بچے خوراک کی کمی اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں، جس کو بنیاد بناکر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

عدالت میں سماعت سے ایک روز قبل صوبائی وزیر صحت جام مہتاب ڈھر پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ محکمہ صحت نے تھرپارکر میں 170 بند ڈسپینسریوں کو فعال کرکے وہاں پر 557 تربیت یافتہ عملے کی مقرری کردی ہے تاکہ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ صحت کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ انھوں نے 167 مقامی لڑکیوں کا انتخاب کیا ہے جوکہ میٹرک یا انٹر کی تعلیم رکھتی تھی اور ان کو تین دن کا مڈوائیف فری کورس کی تربیت بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی غیر تربیت یافتہ دائیوں کو بھی محفوظ طریقے سے ڈلیوری کرانے کی تربیت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں