’مقصد یہ یقین دلانا تھا کہ دوسری آپشن موجود ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض لوگوں کے خیال میں مصطفیٰ کمال جو بولے سو بولے لیکن جو نہیں بولے وہ بھی اہم ترپ کا پتہ ہیں

مصطفیٰ کمال نے واقعی کمال کیا یا نہیں اس پر دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن انھوں نے اپنا جلال ضرور دیکھا دیا۔ انھوں نے اپنی توپوں کا رخ جو اپنی جماعت کی جانب کیا ہے تو یہ کسی سیاسی جماعت میں پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔

تقریباً ہر جماعت اپنی ہی پکائی ہوئی ہانڈی خود چکھ چکی ہے۔ اس کی دراصل وجہ کیا ہے؟ جماعتوں کے اندر پائی جانے والی آمریت ہے یا کچھ اور؟

متحدہ قومی موومنٹ جیسی مضبوط جماعت کے لیے یہ یقیناً ایک بڑا دھچکہ ہے لیکن جس قسم کے حالات کا اسے گذشتہ تین چار سال سے سامنا ہے اس میں یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ تجزیہ نگار عبدالقیوم خان کنڈی کہتے ہیں یہی کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ جماعت کے مضبوط سپوت ذوالفقار مرزا نے اپنے بھانڈے پھوڑ کر کیا، ذوالفقار کھوسہ نے اپنی ہی جماعت مسلم لیگ ن کی قیادت پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے کیا اور عمران خان کی تحریک انصاف اس جیسی صورتحال سے دوچار ضیا اللہ آفریدی کی گرفتاری کے بعد ہوئی۔

عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ ان سیاسی جماعتوں کا مضبوط جمہوری اداروں کی بجائے آمریت کے زیر تسلط ہونا ہے۔ کئی پر خاندان حاوی ہیں تو کئی شخصی گرفت میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tribune
Image caption تجزیہ نگار عبدالقیوم خان کنڈی کہتے ہیں یہی کچھ پیپلز پارٹی کے ساتھ ذوالفقار مرزا نے اپنے بھانڈے پھوڑ کر کیا

ایم کیو ایم کے ساتھ اس تازہ ہاتھ کے پیچھے کون ہے، ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔اس صورت حال سے یقیناً لوگوں کے ان جماعتوں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی لیکن ملکی کی تاریخ میں یہ وہ ارتقائی عمل ہے جس سے ان کو ایک نہ ایک دن گزرنا پڑتا ہے۔

عام لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس تک بات ٹھیک ہے لیکن اسے ملک کے اندر سیاست مخالف قوتوں کی سرگرمیوں کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ جب تک ان جماعتوں کے اندر خود احتسابی نہیں ہوگی، غلط کو غلط قرار نہیں دیا جائے گا، یہ جمہوریت اور سیاست مخالف قوتوں کے لیے اہم مواقعے ثابت ہوں گے جن سے وہ لوگوں کے جذبات کو مزید ابھار سکیں گی۔

جب یہ آمر چاہے فوجی ہوں یا سیاسی، حکومت میں ہوتے ہیں تو یہی مصطفیٰ کمال اور ذوالفقار مرزا نہ تو مبینہ طور پر ’را‘ کے ایجنٹ ہوتے ہیں اور نہ کچھ اور۔ انھیں اس وقت کے حکمراں اپنی ضرورت کے لیے بخوبی استعمال کرلیتے ہیں۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی بعد میں بھی وہ ان لوگوں کے لیے اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کی ذمہ دار خود سیاستدان ہیں اور کوئی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جب بھی کوئی بڑی سیاسی جماعت کسی بحران سے دوچار ہوتی ہے تو ’مائنس ون‘ کی صدائیں بھی بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں

بعض لوگوں کے خیال میں مصطفیٰ کمال جو بولے سو بولے، لیکن جو نہیں بولے وہ بھی اہم ترپ کا پتہ ہیں جو شاید آگے جا کر اگر بولے تو بہت سو کی زبان بند ہو جائے گی۔ وہ ہیں انیس قائم خانی۔ وہ بھی ایم کیو ایم کے اندر کے آدمی ہیں۔ فی الحال ایم کیو ایم مخالفین نے تمام پتے کھیلنے کی کوشش نہیں کی۔ گھنٹوں طویل پریس کانفرنس کا ہدف سب کو معلوم ہے کہ وہ اس جماعت کے کارکن تھے۔ انھیں یقین دلانا تھا کہ شاید دوسری آپشن موجود ہے۔

جب بھی کوئی بڑی سیاسی جماعت کسی بحران سے دوچار ہوتی ہے تو ’مائنس ون‘ کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو، کیا بےنظیر بھٹو، کیا نواز شریف، ان کے خلاف کوششیں تو بہت ہوئیں لیکن کامیاب ایک بھی نہ ہو سکی۔ نواز شریف کو کچھ عرصے کے لیے ملک سے مائنس ہونے کے باوجود وہ ’ڈبل پلس‘ کے ساتھ واپس لوٹے۔ ایم کیو ایم میں بغاوت شاید مائنس فارمولے کی صحت کا تعین کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا کتنے کارکن بھائی سے کمال کرتے ہوئے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔

۔

اسی بارے میں