تحفظِ نسواں قانون شرعی عدالت میں چیلنج

پنجاب اسمبلی نے جب سے تحفظ نسواں کا قانون منظور کیا ہے ملک بھر میں ایک ہیجان برپا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے مولانا شیرانی نے تو اس قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج بھی کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون آئین پاکستان کے نظریے اور شریعت سے متصادم ہونے ہے۔

خواتین کو گھریلو تشدد سے محفوظ رکھنے کے اس قانون میں سب سے زیادہ واویلا مردوں کو تشدد کرنے پر دو روز کے لیے گھر سے نکالے جانے، خاتون کو جان کے خطرے کی صورت میں مرد کو جی پی ایس ٹریکر کڑے پہنانے اور خاتون کو کسی مالی نقصان کے ازالے کی رقم براہ راست مرد کی تنخواہ سے کٹوتی کروانے پر مچایا جا رہا ہے۔

بل کو منظور کرنے کے لیے کئی ماہ تک مشاورت اور غور و فکر کیا گیا اور یہ متفقہ طور پر منظور ہوا۔

تاہم حزبِ اختلاف کے رہنما سمیت کئی مرد ارکان منظوری کے دوران اجلاس میں موجود نہیں تھے اور اجلاس ختم ہوتے ہی متعدد حکومتی ارکان برملا میڈیا پر اسے تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ اس کے باوجود گورنر نے بل کی منظوری دے دی اور یہ قانون بن گیا۔

قانون پر سب سے زیادہ نکتہ چینی مذہبی حلقوں کی جانب سے کی گئی اور کئی ایسے سیاست دان اس میں سرِ فہرست دکھائی دیے جن کی پنجاب میں کوئی نمائندگی نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان ان میں سے ایک ہیں جنھوں نے بل منظور کرنے پر پوری پنجاب اسمبلی کو ہی زن مرید کہہ ڈالا اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے اسے روایتی خاندانی نظام کی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا۔

بل کی مخالف جماعت اسلامی کے ترجمان امیر العظیم کہتے ہیں کہ ’ہمیں خواتین کے تحفظ پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ قانون خواتین کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بلکہ مردوں کو کڑے پہنانے کے لیے بنایا گیا ہے جو قابل قبول نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خواتین کے تحفظ کے لیے تو پہلے بھی متعدد قوانین موجود ہیں، مسئلہ عمل درآمد کا ہے۔ اس قانون کے کیا مقاصد ہیں یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔‘

مذہبی حلقوں کی تنقید سے قطع نظر لاہور میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور خواتین ارکان اسمبلی نے نئے قانون کی منظوری کا جشن منایا۔

تقریب کی میزبان ’عورت فاؤنڈیشن‘ کی صوبائی رابطہ کار ممتاز مغل تحفظ نسواں بل کو درست سمت میں قدم قرار دیتی ہیں۔

’مسئلہ یہ ہے کہ اس بل کے نقادوں نے اسے پڑھا ہی نہیں۔ بس یہ شور مچا ہے کہ مردوں کو کڑے پہنا دیں گے، انھیں گھروں سے نکال دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کا پہلا ایسا قانون ہے جس میں عمل درآمد کا پورا نظام بھی موجود ہے اور اس کے مالی وسائل کی دستیابی بھی پہلے ہی یقینی بنائی جا چکی ہے۔‘

ممتاز مغل کا کہنا ہے کہ ’یہ قانون خواتین کو ہراساں کیے جانے یا ان پر تیزاب پھینکنے سے متعلق پہلے سے موجود قانون سازی کو بھی مزید طاقتور بنائے گا۔‘

اس قانون کو مرحلہ وار صوبے میں نافد کیا جائے گا، تاہم ضلعی سطح پر ویمن پروٹیکشن کمیٹیوں اور مراکز کے قیام کے بغیر اس کا نافذ ہونا ممکن نہیں اور ابھی اس میں کچھ وقت لگے گا۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ پنجاب حکومت مذہبی حلقوں کی تنقید کو کس حد تک سہہ پائے گی؟ کیا یہ قانون اسی شکل میں رہے گا یا دباؤ اور تنقید کے بعد اس میں تبدیلیاں کی جائیں گی؟

اسی بارے میں