بچے کو ’دہشت گرد‘ قرار دینے پر ڈی ایس پی گرفتار

Image caption پولیس کی جانب سے زوہیب پر شہریوں پر گولیاں چلانے کاالزام عائد کیاگیاتھا

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ شہباز خان نے غلط بیانی اور جھوٹ پر مبنی حلف نامہ جمع کرانےاور عدالت سے دس سالہ بچے کو اشتہاری ملزم قرار دلوانے پر تفتیشی افسر ڈی ایس پی راجہ رحمت کو احاطہ عدالت سے گرفتار کرا کے آئی جی کو ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کا حکم دیا ہے۔

عدالت کی جانب سے مقدمے کی سماعت کے لیے اخبارات میں دیے گئے اشتہارات کے بل بھی ڈی ایس پی سے وصول کرنے کا حکم دیاگیا ہے جبکہ چوتھی جماعت کے دس سالہ طالب علم زوہیب کو باعزت بری کردیا ہے۔

خیال رہے کہ اٹھ جون کو گلگت بلتستان میں ہونے والےانتحابات کے دوران ضلع دیامر کے علاقے داریل میں پولیس اور لوگوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں دس سالہ زوہیب زخمی ہوا تھا۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے زوہیب پر شہریوں پر گولیاں چلانے کاالزام عائد کیاگیا۔

جس کے بعد دیامر پولیس نے بچے کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا تھا اور مقدمے میں نامزد دیگر نو ملزمان کے ساتھ بچے کو بھی عدالت سے اشتہاری قرار دے کر علاقائی اور مقامی اخبارات میں اشتہارات شائع کئے تھے۔

زوہیب کے والد جہانزیب کے مطابق پولیس نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان کے بیٹے کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیاگیا ہے بلکہ انھیں اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات سے معلوم ہوا اس لیے وہ اپنے بچے کو عدالت میں پیشی کے لیے لے آئے۔

عدالت کی جانب سے باعزت بری ہونے کے بعد زوہیب اور اس کے والد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو سراہا، تاہم ان کاکہنا تھا کہ تصادم کے دوران انھیں گولی لگی اور وہ زخمی ہوا لیکن پولیس انھیں انصاف دینے کے بجائے انھیں دہشت گرد ثابت کرنے کی کوششیں کرتی رہی جس پر انھیں افسوس ہے۔

اسی بارے میں