رینجرز نے مقدمات درج کرنے کے اختیارات کا مطالبہ کر دیا

Image caption رینجرز کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رینجرز نے 2015 میں 6 ہزار ملزمان کو گرفتار کیا

کراچی میں رینجرز نے تھانوں کے قیام اور مشتبہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کرنے کی اجازت طلب کی ہے اور کہا ہے کہ اختیارات پر رکاوٹیں لگانے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے ہیں، رینجرز کو انسداد دہشت گردی پولیس کےاختیارات دیے جائیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں فل بینچ نے پیر کو کراچی بدامنی کیس میں احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں مقدمے کی سماعت کی۔ اس موقعے پر چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے شرکت کی۔ عدالت نے رینجرز کی کارکردگی کی تعریف کی اور پولیس پر ناراضی کا اظہار کیا۔

رینجرز کے وکیل انور شاہد باجوہ کا کہنا تھا کہ انھیں 11 پراسیکوٹرز دیے گئے، لیکن خصوصی عدالتوں میں حکومت نے پراسیکیوٹر تعینات نہیں کیے۔ جس پر عدالت نے سندھ کے چیف سیکریٹری سے پوچھا کہ ’رینجرز کو مقدمات کی پیروی کے لیے پراسیکیوٹر کیوں نہیں دیے گئے؟ اگر آپ سے کام نہیں ہوتا تو گھر چلے جائیں۔‘

رینجرز کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رینجرز نے 2015 میں چھ ہزار ملزمان کو گرفتار کیا، لیکن پولیس کی ناقص تفتیش کی وجہ سے 11 سو ملزمان بری ہوگئے، جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں رینجرز نے ملزمان آپ کے حوالے کیے، رینجرز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ صفورا واقعے کا اہم ملزم گرفتار ہوا اور رہا بھی ہوگیا۔

رینجرز کے وکیل شاہد انور باجوہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں رینجرز کے صرف دو ڈائریکٹر جنرلز کا تبادلہ ہوا، لیکن پولیس میں تبادلوں کا عمل مستقبل طور پر جاری رہتا ہے اور روز روز پولیس افسروں کے تبادلوں کی وجہ سے کراچی میں قیام امن کے لیے آپریشن متاثر ہو رہا ہے۔

رینجرز کے وکیل نے تجویز دی کہ رینجرز کو الگ تھانوں کے قیام کی اجازت دی جائے، جہاں رینجرز مقدمات دائر کر سکیں اور گرفتار ملزمان سے تفتیش کر کے چالان عدالت میں پیش کرنے بھی اختیارات دیے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سماعت کے دوران جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ 2 سے 3 ہزار ملزمان شہر میں آزادنہ نمونے گھوم رہے ہیں

اس سے قبل آئی جی غلام حیدر جمالی نے رپورٹ پیش کی کہ ٹارگٹ کلنگ میں 96 فیصد کمی آئی ہے جبکہ بینک ڈکیتیوں میں 58 فیصد، قتل کے واقعات میں 64 فیصد اور سٹریٹ کرائم میں 25 فیصد کمی آئی ہے۔ جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی رپورٹ کا کوئی فائدہ نہیں جو صرف اعداد و شمار پر مشتمل ہو۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ آپ کراچی میں قیام امن کی جو دعویٰ کر رہے ہیں وہ رینجرز کی کوششوں کی وجہ سے ہوا ہے۔

آئی جی غلام حیدر نے موقف اختیار کیا کہ پولیس اور رینجرز نے ملزمان کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی ہیں اور پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جان کی قربانیاں دی ہیں۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ان سے سوال کیا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگز کے کتنے مقدمات کے چالان پیش کیے گئے ہیں، ’پولیس لوگوں کو گرفتار کر کے تھانے پر لے جاتی ہے اور پیسے لے کر چھوڑ دیتی ہے، کیا یہ سب کچھ آپ کے علم میں ہے؟‘

جسٹس انور ہانی نے آئی جی کو آگاہ کیا کہ شارٹ ٹرم اغوا کی وارداتیں بڑہ گئی ہیں، ’کیا آپ کو اس کے بارے میں علم ہے؟ 47 افراد کے شارٹ ٹرم اغوا کی شکایتیں ملی ہیں ان میں پولیس افسران کے ملوث ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ عدالت نے قلیل مدت کے لیے اغوا ہونے لوگوں کی فہرست آئی جی کو دیتے ہوئے سوال کیا کہ ان میں سے کتنے مقدمات چالان کیے گئے ہیں؟ آئی جی نے بتایا کہ چار حکام کو گرفتار کر کے مقدمات دائر کر دیے گئے ہیں۔

عدالت نے سندھ حکومت سے پیرول پر رہائی پانے والےملزمان کا تفصیلات طلب کیں۔ پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے بتایا کہ سندھ میں 70 قیدیوں کو پیرول پر رہا کیا گیا، 54 ملزمان کے مقدمات کا فیصلہ ہو گیا اور وہ بری ہو چکے، جبکہ 16 مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ دو سے تین ہزار ملزمان شہر میں آزادانہ گھوم رہے ہیں، امن کیسے بحال ہوگا؟ عدالت نے مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد رینجرز اور حکومت میں جگری کشیدگی کی جھلک سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھی دیکھی گئی۔

اسی بارے میں