نئے ضوابط کے خلاف پرائیویٹ سکولوں کی ہڑتال

Image caption مارچ میں سالانہ امتحانات کے قریب سکولوں کی بندش اور تعلیمی سلسلہ متاثر ہونے پر بھی طلبہ اور والدین تشویش کا شکار ہیں

پنجاب میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی کال پر اکثر نجی سکول بند رہے۔ یہ ہڑتال فیڈریشن کی جانب سے پنجاب میں حال ہی میں منظور کیے گیے نئے قانون خلاف احتجاج کے طور پر کی گئی۔

نئے قانون کے مطابق فیسوں میں اضافے اور سکولوں کی رجسڑیشن سے متعلق نئے اور سخت قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں۔ نئے قانون میں نجی سکول مالکان پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ فیسوں میں سالانہ پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ نہیں کر پائیں گے۔

اس معاملے پر نجی سکولوں کی تنظیموں کے حکومت سے مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں جو اب تک کامیاب نہیں ہو سکے، جس کے بعد پرائیویٹ سکول فیڈریشن کا اصرار ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سے براہ راست ہی مذاکرات کریں گے۔

فیڈریشن نے حکومت کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے اور حکومت نے ان کی مرضی کے مطابق ایجوکیشنل انسٹیوٹس بل میں ترامیم نہ کیں تو وہ مستقلا ہی نجی تعلیمی ادارے بند کر دیں گے۔

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کہتے ہیں: ’ہم پہلے بھی کئی بار حکومت پر واضح کر چکے ہیں کہ نئے قانون کی موجودگی میں ہمارے لیے اپنے ادارے چلانا ممکن نہیں۔ اس قانون کے ذریعے کرپشن کے نئے راستے کھلیں گے۔ سکول مالکان کو حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ہراساں کیا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر فیسوں میں پانچ فیصد تک اضافے کی پابندی کے ساتھ ہمارے لیے اس مہنگائی میں سکول ہمارے بس میں ہی نہیں رہے گا۔ ابھی ہم نے دو دن ہڑتال کی کال دی ہے۔ اگر بات نہ سنی گئی تو مستقلاً سکول بند کر کے چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔ وہ خود انھیں چلائے۔‘

حکومت کی جانب سے سکول مالکان کے کچھ دھڑوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش بھی کی گئی جو بارآور ثابت نہ ہو سکی، اور پنجاب میں اکثر نجی تعلیمی ادارے بند رہے۔

وزیرتعلیم رانا مشہود کا کہنا ہے کہ ’ہم مذاکرات سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر بات نہ بنی تو سکول مالکان کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔‘

اس ساری صورت حال میں سب سے زیادہ پریشانی طلبہ اور والدین کو ہی اٹھانا پڑی۔ بہت سے طلبہ ہڑتال کی اطلاع نہ ہونے پر صبح سکول آ کر گھروں کو واپس گئے۔ جبکہ مارچ میں سالانہ امتحانات کے قریب سکولوں کی بندش اور تعلیمی سلسلہ متاثر ہونے پر بھی طلبہ اور والدین تشویش کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں