پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑنا نہیں چاہتا: الطاف حسین

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے اور یہ کہ ’میں لڑنا نہیں چاہتا۔‘

بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں نامہ نگار ثقلین امام کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے لڑنا نہیں چاہتے۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو ان سے مشورہ کرنا چاہیے کیونکہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں۔ ’پہلے میں آپ کو تعاون کی پیش کش کر چکا ہوں، آپ کو سلیوٹ کر چکا ہوں، آپ نے اس کی لاج نہیں رکھی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ دوبارہ تعاون کی پیش کش کرتے ہیں کیونکہ ’آپ میرے اپنے وطن کے سپاہی ہو۔‘ انھوں نے کہا کہ الطاف حسین کو دشمن مت سمجھو، اپنا سمجھو، ایم کیو ایم کو اپنا سمجھو۔

الطاف حسین جو برطانوی شہریت اختیار کر چکے ہیں انھوں نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ وہ ان سے تعاون کریں اور انھیں اختیار دے کر تو دیکھیں۔ انھوں نے دعوی کیا کہ وہ دس سال میں اس وطن یعنی پاکستان کو دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک نہیں تو دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں لا کر کھڑا کر دیں گے۔

اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ اگر وہ اپنے دعوے کو پورا نہ کر سکیں تو پھر جو ’چور کی سزا وہ میری۔‘

گزشتہ دو دہائیوں سے لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما نے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ سے تعلقات اور پیسے وصول کرنے کے الزامات کے بارے میں سوال پر انھوں نے ہاں یا نہ میں جواب دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا: ’ر سے رسول اور الف سے اللہ ہوتا ہے اور میرا ’را‘ سے یہی تعلق ہے اور رہے گا۔‘

متحدہ قومی موومنٹ میں موجودہ شکست و ریخت کے بارے میں انھوں نے کہا کہ انسان کی پانچ ہزار سال پرانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی کسی مضبوط تحریک نے جنم لیا ہے اسے اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ چھوڑ کر جانے والوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ایسے تمام لوگوں نے ماضی میں بھی منہ کی کھائی اور اب بھی کھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے حامیوں نے کڑے سے کڑے وقت کا مقابلہ کیا اور آئندہ بھی کریں گے۔

الطاف حسین سے جب ’ایم کیو ایم سے مائنس الطاف‘ کی باتوں پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا تو انھوں نے 1992 کا حوالہ دیا اور کہا کہ سابق آرمی چیف آصف نواز کا بیان اس بارے میں ریکارڈ پر ہے۔

اپنی صحت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وہ آج بھی اتنا کام کرتے ہیں کہ اگر کوئی صحت مند شخص بھی کرے تو تین دن میں ہسپتال پہنچ جائے گا۔

اسی بارے میں