بچوں کے جنسی استحصال کو جرم قرار دینے کا قانون

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں ایوانِ بالا نے جمعے کو نابالغوں کے جنسی استحصال، بچوں کی فحش تصاویر اور بچوں کی اندرونِ ملک تجارت کو جرائم قرار دینے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد اب اس بل کو صدرِ پاکستان کو بھیجا جائے گا جن کے دستخطوں کے بعد یہ قانون نافذ ہو جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس بل کے تحت تعزیراتِ پاکستان میں جن تبدیلیوں کی منظوری دی گئی ہے ان کے مطابق اب جنسی حملوں پر بھی سات سال قید تک کی سزا ہو سکے گی۔ اس سے قبل صرف جنسی زیادتی ہی جرم تھا۔

اس قانون میں مجرم ٹھہرائے جانے کی کم از کم عمر کو بھی سات سے بڑھا کر دس سال کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بچوں کی فحش تصاویر رکھنے یا ان کا تبادلہ کرنے کو بھی جرم قرار دیتے ہوئے اس کی زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید اور سات لاکھ روپے جرمانہ رکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال ہی صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں بڑی تعداد میں بچوں سے مبینہ جنسی زیادتی اور اس عمل کی ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔

اس بل میں بچوں کو ملک کے اندر بھی فروخت کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے جبکہ ماضی میں صرف ایسے انسانی سمگلر ہی ملزم تصور ہوتے تھے جو بچوں کو بیرونِ ملک لے جا کر فروخت کرتے تھے۔

بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف میں چائلڈ پروٹیکشن کے شعبے کی سربراہ سارہ کولمین نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اس بل کی منظوری کو بچوں کے حقوق کے کنونشن کے تحت عائد ذمہ داریوں کو سمجھنے کے سلسلے میں پاکستان کا بہت اہم قدم قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں