رینجرز اور ایم کیو ایم میں کشیدگی کا نیا بہانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلشن اقبال اور عیسیٰ نگری میں رینجرز کی چیک پوسٹوں پر دستی بم حملے کیے گئے

کراچی میں آپریشن میں مصروف رینجرز اور ایم کیو ایم ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں، اس قبل دونوں میں آپریشن پر اختلاف رائے سامنے آتا رہا ہے لیکن اس بار مصطفیٰ کمال کی زیر قیادت جاری سیاسی تبدیلی پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

رینجرز ترجمان نے کہا ہے کہ حملے اور الزامات ایک ہی سازش کی کڑی ہیں، عوام شرپسندوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔گلشن اقبال اور عیسیٰ نگری میں رینجرز کی چیک پوسٹوں پر دستی بم حملے اور ایم کیو ایم کی پریس کانفرنس کے بعد رینجرز کا یہ موقف سامنے آیا ہے۔

اتوار کی صبح دستی بم حملے میں چیک پوسٹوں کو نقصان پہنچا تھا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے کہ دیسی ساخت کا بارودی مواد پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر پھینکا گیا تھا دونوں حملوں میں ایک ہی نوعیت کا مواد استعمال ہوا ہے۔ دونوں حملوں کے مقدمے گلشن اقبال اور عزیز بھٹی تھانے میں درج کیے گئے ہیں۔

رینجرز کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے ایک عسکریت پسندگروپ کراچی میں تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دینے میں مصروف عمل ہے اور مختلف اشخاص کو پرتشدد کارروائیوں کی ترغیب دے رہا ہے۔

’ کچھ اشخاص نے رینجرز سندھ سے رابطہ کرکے ان مذموم کوششوں کی نشاندھی کی ہے، آج صبح رینجرز کی چیک پوسٹوں پر کیے گئے حملے اور رینجرز پر جھوٹے الزامات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔‘

رینجرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حرکات کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور پرتشدد کارروائیوں کے لیے اکسانے والے افراد کو جلد گرفتار کیا جائے گا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کرنے والے افراد کو مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں ایم کیوایم کے مختلف مقدمات میں قید 40 کارکنان کو بند وارڈ کردیا گیاہے

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینیئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی سینٹرل جیل میں ایم کیوایم کے مختلف مقدمات میں قید 40 کارکنان کو بند وارڈ کردیا گیاہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بناکر وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے مجبور کیاجارہا ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ دو روز قبل رینجرز کی بھاری نفری نے کراچی سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے ہمراہ چار بیرکوں پر دھاوا بولا اورجیل مینوئل کے مطابق ایم کیوایم کے اسیر کارکنان کو حاصل حقوق سلب کرلیے، جبر و تشدد کے ہتھکنڈے استعمال کرکے انہیں خوفزدہ کرکے بند وارڈ کردیا گیا۔

’ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ سے نامعلوم نمبروں سے رابطہ کرکے کہاگیا ہے کہ اگر ان کے پیارے’نئے بنگلے ‘ کو جوائن کرلیں تو نہ صرف لاپتہ کارکنان کی بازیابی عمل میں آسکتی ہے بلکہ اسیر کارکنان کی رہائی بھی ہوسکتی ہے جبکہ دھمکی آمیز کالوں کے ذریعہ ارکان اسمبلی کی ہارس ٹریڈنگ کی بھی سازش کی جارہی ہے۔‘

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اس سازش کے انکشاف سے ریاستی اداروں کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے جس کا سدباب کرنا افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔

دریں اثنا شہر میں سابق سٹی ناظم اور ایم کیو ایم کے منحرف رہنما مصطفیٰ کمال کی حمایت میں بعض علاقوں میں پوسٹر لگائے گئے ہیں جن میں سے کچھ کو نامعلوم افراد نے پھاڑ دیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کی رہائش گاہ پر اتوار کی شام دو درجن کے قریب لوگوں نے پہنچ کر اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی جبکہ پیر کو انھوں نے ایم کیو ایم کی مزید وکٹس گرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں