رضا ہارون بھی مصطفیٰ کمال کے کیمپ میں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کسی ایک شخصیت کومطمئن کرنے یا اس کی پوجا کرنے نہیں آئے تھے: (فائل فوٹو)

طویل عرصے سے سیاسی منظرنامے سے ایم کیو ایم کے غائب رکن رضا ہارون بھی مصطفیٰ کمال کے کیمپ میں شامل ہو گئے ہیں۔

پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس میں انھوں نے اس کا اعلان کیا۔

ایم کیو ایم کے مزید دو اراکین منحرف

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ہارون کہا کہنا تھا کہ جب تین مارچ کو مصطفیٰ کمال نے پاکستان واپسی پر پہلی پریس کانفرنس کی اور ’ ہم نے لندن میں اپنے گھر میں بیٹھ کر یہ دیکھا اور سنا تو دل کی آواز آئی کہ یہ بات تو درست ہے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ مصطفیٰ کمال نے باطل قوت کے سامنے کھڑے ہونے کی ہمت کی ہے جس کی اشد ضرورت تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے کئی لوگ تنگ آچکے تھے، پریشان تھے، کیونکہ جب ایم کیو ایم بنی تھی تو خیال یہی تھا کہ یہ جماعت ایک عام آدمی کے حقوق، مڈل کلاس کی حکمرانی، جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے لیے کام کرے گی۔

رضا ہارون کے بقول ان جیسے کئی نوجوان اسی وجہ سے ہی شامل ہوئے تھے اور وہ کسی ایک شخصیت کومطمئن کرنے یا اس کی پوجا کرنے نہیں آئے تھے۔

’لیکن یہ وہ ایم کیو ایم نہیں ہے۔‘

رضا ہارون کا کہنا تھا کہ مہاجریت کو کوٹہ سسٹم سے جوڑا گیا، اٹھارھویں ترمیم جب لائی جا رہی تھی تو تمام جماعتوں نے اپنی باتیں کیں لیکن ایم کیو ایم اپنی یہ بات نہیں منوا سکی۔‘

غرور، گھمنڈ ، احساس کمتری اور فحش زبان کا استعمال اخلاق سے گری باتیں، حالیہ خطاب کیا کوئی گھر میں سن سکتا ہے، کوئی کارکن اپنے گھر میں یہ بات کہہ سکتا ہے کہ اس کے قائد نے کیا کہا ہے۔‘

رضا ہارون کا مزید کہنا تھا کہ ’را سے مدد مانگنے کے بعد صبح کو معافی کا بیان دے رہے ہیں، ، نیٹو اور اقوام متحدہ کو کہہ رہے ہیں کہ کراچی آجائیں۔ وہ تو سب آجائیں گے لیکن آپ کب آ رہے ہیں؟‘

’ہم تین حکومتوں کا حصہ رہے، قومی دھارے میں شامل رہنے کے باوجود ہم یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارا را کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔‘

یاد رہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں مصطفیٰ کمال کی حمایت میں پوسٹر اور وال چاکنگ کی گئی ہے، جن میں انھیں امید کی کرن لکھا گیا ہے۔ مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں باغ جناح میں جلسہ عام کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں