’ٹھیکے بڑی کمپنیوں کو مل گئے، چھوٹے چھاپہ خانے بند‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع واحد صنعتی زون حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں درسی کتب چھاپنے والے زیادہ تر پرنٹنگ پریس تقریباً آٹھ ماہ سے مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔

ان چھوٹے بڑے کارخانوں میں نصب لاکھوں روپے کی قیمتی مشینری کو آہستہ آہستہ زنگ لگنا شروع ہوگیا ہے اور مالکان اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس بھاری اور قیمتی مشینری کو سکریپ میں فروخت کر کے مزید نقصان سے بچا جائے۔

اس بندش کی وجہ مالکان خیبر پختونخوا میں حکومت کی طرف سے درسی کتب چھاپنے کے ضمن میں نافذ کردہ نئے قوانین کو قرار دیتے ہیں جن کی وجہ سے درسی کتب چھاپنے کے زیادہ تر ٹھیکے مقامی چھاپہ خانوں کی جگہ پنجاب کی بڑی پبلشنگ کمپینوں کو مل گئے ہیں۔

اس وجہ سے جہاں پشاور میں 70 سے زائد چھاپا خانوں کو تالے لگ چکے ہیں وہیں ان سے وابستہ دس سے پندرہ ہزار کے قریب افراد بھی بےروزگار ہو چکے ہیں۔

حیات آباد صنعتی زون میں واقع سپین زر پرنٹنگ پریس کے مالک اور خیبر پختونخوا پرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کے رہنما شہریار لودھی کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے کوٹے کے حساب سے چھاپا خانوں کو کام کے ٹھیکے ملتے تھے لیکن اب طریقۂ کار تبدیل کر کے ٹینڈر کا طریقہ متعارف کروا دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئے قواعد کے تحت ٹینڈرز ان کمپینوں کو مل گئے ہیں جن کے پاس سرمایہ زیادہ تھا اور ان میں سے بیشتر پنجاب سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کی ہے۔

شہریار خان نے مزید کہا کہ صوبے کے وسائل پر سب سے پہلے اصولاً یہاں کے لوگوں کا حق ہونا چاہیے۔

ان کے بقول ’اب پنجاب ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ تو نہ چھینے، ہم دہشت گردی کی وجہ سے پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں ہمیں مزید تباہی کی طرف نہ لے جایا جائے۔‘

خیبر پختونخوا پرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کے مطابق ان چھوٹے کارخانوں سے تقریباً دس سے پندرہ ہزار افراد کا روزگار لگا ہوا تھا جن میں ان میں کام کرنے والے مزدوروں کے علاوہ چھوٹے دکاندار بھی شامل ہیں۔

ایسوسی ایشن کے ایک رہنما اقتدار خان کا کہنا ہے کہ حیات آباد صنعتی زون میں کئی جنرل سٹور، چھوٹے ہوٹل اور روٹیاں فروخت کرنے والے تنور بھی تھے لیکن بڑی تعداد میں مزدوروں کے بےروزگار ہونے سے یہ تمام دوکانیں بھی بند ہوگئی ہیں۔

Image caption پشاور میں 70 سے زائد چھاپا خانوں کو تالے لگ چکے ہیں اور ان سے وابستہ ہزاروں افراد بےروزگار ہو چکے ہیں

خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق اس سال صوبے اور فاٹا کے لیے چھ کروڑ سے زائد درسی کتب چھاپنے کا ہدف رکھا گیا ہے جن میں پہلی مرتبہ زیادہ تر کتابیں پنجاب سے چھپ کر آ رہی ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کتابوں کی چھپائی میں شفافیت لانے کے لیے نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ کیا گیا ہے تاکہ کسی کو بھی شکایت کا موقع نہ مل سکے۔

صوبائی وزیر تعلیم عاطف خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے ان کے پاس اکثر اوقات شکایات آتی تھیں کہ فلاں پرنٹنگ پریس کو زیادہ کوٹہ دیا گیا ہے اور فلاں کو کم جس سے ہر وقت مشکلات پیش آتی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے اسی معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کی اور اوپن ٹینڈرنگ کا طریقۂ کار اپنایا گیا تاکہ تمام معاہدے اور ٹھیکے شفاف ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ گویا حکومت کسی سے روزگار چھین رہی ہے بلکہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو روزگار دیا جائے۔

عاطف خان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اس معاملے کو کسی طریقے سے حل کیا جائے لیکن پریس مالکان کو بھی شفافیت کے عمل میں حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔

اسی بارے میں