پیپلز پارٹی اور مخدوم خاندان میں بڑھتی کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption مخدوم امین فہیم کی چند ماہ قبل وفات کے بعد یہ گدی مخدوم جمیل الزمان نے سنبھالی ہے

سندھ میں مخدوم خاندان اور حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان کشیدگی کمروں سے نکل کر سر عام آگئی ہے۔

سروری جماعت کے گدی نشین اور رکن صوبائی اسمبلی مخدوم جمیل الزمان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کی شکایت کا ازالہ نہیں کیا گیا تو اب وہ مزید پیپلز پارٹی کے ساتھ رہنے کے پابند نہیں ہوں گے۔

مخدوم خاندان کو بنگلے سے باہر نکلنا پڑگیا

ہالہ کے مخدوم خاندان کی یہ تیسری نسل ہے جو پیپلز پارٹی کے ساتھ منسلک ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ مخدوم طالب المولیٰ کے ذاتی دوستی تھی اور پیپلز پارٹی کا پہلا کنونشن بھی یہاں ہوا تھا، یہ سیاسی اور ذاتی رشتہ مخدوم امہین فہیم بھی نبھاتے آئے تھے۔

مخدوم امین فہیم کی چند ماہ قبل وفات کے بعد یہ گدی مخدوم جمیل الزمان نے سنبھالی ہے۔ ہالہ میں اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں والد نے مستقبل کے سیاسی فیصلے کے حوالے سے با اختیار چھوڑا ہے اگر کوئی ان کے ساتھ ٹھیک نہیں چل رہا تو وہ اپنا سیاسی فیصلہ خود کرسکتے ہیں۔

مخدوم جمیل الزمان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں جہاں بھی سروری جماعت کے لوگ منتخب ہوئے ہیں، ان کی فہرست حکومت سندھ کو دے دی ہے اور کہا کہ انھیں چیئرمین اور وائس چیئرمین کی نشستیں دی جائیں۔ اب انتظار ہے کہ حکومت سندھ کتنا مثبت جواب دیتی ہے۔

مخدوم امین فہیم پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے صدر رہے اور انھیں بےنظیر بھٹو کا اعتماد بھی حاصل رہا لیکن ان کی وفات کے بعد جب صدر آصف علی زرداری نے قیادت سنبھالی تو صورت حال میں تبدیلی آنے لگی۔

تجزیہ نگار منظور شیخ کا کہنا ہے کہ ’آصف علی زرداری نے مخدوم امین فہیم کو وزیر اعظم بنانے کا اشارہ دیا تھا، اسی وجہ سے ہی انھوں نے بینظیر بھٹو کی مبینہ وصیت کی حمایت کی تھی۔ بعد میں جب یوسف رضا گیلانی کو وزیرِاعظم کے لیے نامزد کیا گیا تو مخدوم امین فہیم نے سمجھا کہ انھیں استعمال کیا گیا ہے، جس وجہ سے وہ آخری وقت تک ٹوٹے دل کے ساتھ پارٹی میں رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آصف علی زرداری نے مخدوم امین فہیم کو وزیر اعظم بنانے کا اشارہ دیا تھا، اسی وجہ سے ہی انھوں نے بےنظیر بھٹو کی مبینہ وصیت کی حمایت کی تھی

تجزیہ نگار اور کالم نویس ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ مخدوم امین فہیم بڑے بردبار آدمی تھے، اُن کی زندگی میں کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہوا۔ اگر ہوتا تو بھی حل ہو جاتا تھا۔ لیکن جمیل الزماں کے آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ ان کے مطالبات حل ہونے چاہییں۔

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے گذشتہ چند سالوں میں ناہید خان ان کے شوہر صفدر عباسی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، نبیل گبول اور فیصل عابدی اپنی راہیں الگ کر چکے ہیں، لیکن سوائے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کہ کسی اور نے کوئی جگہ نہیں بنائی۔

تجزیہ نگار شہاب الدین اوستو کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر جو تنظیمی ڈھانچہ بنا ہوا ہے اس میں مخدوم خاندان پارٹی کے اتنے قریب نظر نہیں آتا ہے، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ صرف سروری جماعت کے حوالے سے بات کرنا سیاسی دانشمندی نہیں۔

سندھ میں ان دنوں گرینڈ ڈیموکریٹس الائنس کے نام سے مسلم لیگ فنکشل سمیت قوم پرست جماعتوں کا ایک الائنس موجود ہے، جس کی سربراہی پیر پگاڑا کر رہے ہیں، بعض تجزیہ نگار مخدوم خاندان کی دہمکی کو اس تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

شہاب اوستو کے مطابق اس وقت یہ افواہیں سرگرم ہیں کہ پیپلز پارٹی میں بھی کوئی فارورڈ بلاک بننے جا رہا ہے اور اس دوران مخدوم کا یہ عمل سمجھ میں آسکتا ہے۔ جبکہ منظور شیخ سمجھتے ہیں کہ جو نیا منظر بن رہا ہے مخدوم ہاؤس اس میں اپنے آپشن کھلے رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی حیثیت تسلیم کرا سکیں۔

سندھ کے چار سے زائد اضلاع میں حر جماعت کی اکثریت موجود ہے، جہاں سے مسلم لیگ فنکشنل نشستیں حاصل کرتی رہی ہے لیکن اس کے برعکس سروری جماعت کی کسی مخصوص علاقے میں اکثریت موجود نہیں ہے، بلکہ اس کا ووٹ سندھ میں تقسیم ہے۔ گذشتہ عام انتخابات میں مخدوم خاندان نے ایک قومی اور تین صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

تجزیہ نگار ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ مخدوموں کا کچھ علاقوں سانگھڑ، تھر پارکر اور ہالہ میں اپنا ووٹ بینک ہے، لیکن پیر پگاڑا سندھ کے سب سے بڑے پیر ہیں اگر الیکشن ہوتے ہیں تو وہ اپنے طور پر پانچ سے چھ سیٹیں لیتے ہیں اور اگر مخدوم خاندان پی پی پی سے علیحدہ ہوتا ہے تو وہ کتنی نشستیں نکال لے گا۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ 2013 میں بھی وہ بہت کم شرح سے جیتے تھے۔

شہاب اوستو نہیں سمجھتے ہیں کہ مخدوم آزادانہ سیاست کر سکتے ہیں انھیں سیاسی سہارے کی ضرورت پیش آئے گی۔ ’پاگارہ کی قیادت میں گرینڈ اور یہ سب لوگ مل جائیں تو ہو سکتا ہے کہ اپنے علاقے کی ایک ایک یا دو دو نشستیں لے لیں پھر وہ پیپلز پارٹی کو کچھ ڈینٹ ڈال سکیں گے لیکن اس میں بھی مخدوم خاندان کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس اتحاد میں بھی چیف منسٹر کے کئی امیدوار ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL ASSEMBLY OF PAKISAN
Image caption گذشتہ عام انتخابات میں مخدوم خاندان نے ایک قومی اور تین صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی

سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے طرز حکمرانی اور بدعنوانی کی کئی شکایات ہیں کئی وزرا اور سیکریٹری اس وقت کرپشن کے مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتح ال کا مخالفین فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

بیرسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اس کا نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ وہ اکیلی سندھ میں حکومت کر سکتی ہے، لیکن آئندہ عام انتخابات میں اس کی جیت کا انحصار اس بات پر ہے کہ پیپلز پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کیسے رہتے ہیں، اگر بہتر تعلقات نہیں بن پاتے تو امکان ہے کہ سندھ میں گرینڈ الائنس یا دوسرے الائنس اور مخدوم خاندان مل کر پیپلز پارٹی کے خلاف مقابلہ کریں گے۔

سندھ میں گذشتہ عام انتخابات میں مخدوم شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں غوثیہ جماعت اور پیر پگاڑا کی حر جماعت نے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر تھر اور عمرکوٹ اضلاع میں ایک دوسرے کی مدد کی تھی۔

تجزیہ نگار منظور شیخ کا خیال ہے کہ اگر گدی نشینوں کا یہ الائنس بنتا ہے تو یقینن سندھ کے سات سے آٹھ اضلاع میں موثر ہو گا اور یہ پاکستان پیپلز پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتا ہے۔

اسی بارے میں