اقلیتوں کے لیے چھٹی کی قرارداد کی روداد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار یوسف نے کہا قومی چھٹیاں پہلے ہی بہت ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ہندو اور عیسائی برادری کے مذہبی تہواروں کے موقعے پر چھٹی کی تجویز پر مبنی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور تو کر لیا ہے تاہم اس حوالے سے اقلیتی رہنماؤں کے تحفظات اور شکایات جوں کی توں برقرار ہیں۔

پاکستان کے ایوانِ زیریں میں اقلیتی برادری کے کل دس اراکین شامل ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق حکمراں جماعت سے ہے۔

انسانی حقوق کا ازسرِ نو جائزہ

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے ایوان میں قرارداد پیش کی۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود آڈر آف دی ڈے کے مطابق اس قرارداد میں دیوالی، ہولی اور ایسٹر کے موقع پر اقلیتی برادری کو چھٹی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی ان کا کہنا تھا کہ ’ایوان کی جانب سے بہتر ردِ عمل ملا، متفقہ طور پر قرارداد کو منظور کیا گیا اور امید ہے کہ اس کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہو گا۔‘

تاہم انھی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے بھون داس کہتے ہیں کہ یہ قرارداد جلد بازی میں منظور ہوئی ہے، ہمیں کوئی چھٹی دے نہ دے، سوال یہ نہیں کہ یہ کیوں ہوا یہ ایسے نہیں ہونا چاہیے، ہم پاکستان کے لیے ہیں ہم پاکستانی ہیں آپ ہمیں قومی دھارے میں شامل کرنا ہے، رواداری کا پیغام دینا ہے تو قومی چھٹی دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قرارداد پیش کرنے میں ان سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی۔

Image caption سرکاری اندازوں کے مطابق پاکستان میں 50 لاکھ سے زائد ہندو آباد ہیں: بھون داس

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی رمیش لال نے بھی اس پیش رفت کو بے فائدہ قرار دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں حج اور عید کے موقع پر چھٹی ہو سکتی ہے تو پاکستان میں دیوالی کے موقعے پر کیوں نہیں ہو سکتی؟

انھوں نے بتایا کہ اس قرارداد پر ووٹنگ کے موقع پر وزیرِ برائے مذہبی امور و ہم آہنگی سردار محمد یوسف اور سٹیٹ منسٹر پیر محمد امین الحسنات کے علاوہ وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید بھی گومگو کی کیفیت میں تھے۔

رمیش لال کہتے ہیں کہ سپیکر ان سے رائے پوچھ رہے تھے اور ’وہ نہ ہاں کر رہے تھے اور نہ ناں کر رہے تھے، اس موقعے پر شیریں مزاری، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی نے شور کیا۔‘

پارلیمنٹ میں قرارداد پر رائے شماری کے موقعے پر پیدا ہونے والی صورت حال کا کچھ ایسا ہی احوال حکمراں جماعت کے رکن بھون داس نے بھی پیش کیا۔

جب ان سے پوچھا کہ ایوان میں اکثریت میں موجود مسلمان اراکین کا ردعمل کیا تھا تو انھوں نے کہا ’ملاجلا تھا مگر بتانے کی سکت نہیں۔‘

تاہم انھوں نے اس قرارداد کو سٹینڈنگ کمیٹی کے پاس پہنچنے سے روک دیا۔

’سٹینڈنگ کمیٹی کو ریفر کر دیں۔ منسٹر صاحب نے بھی کہا لیکن سپیکر نے دبنگ انداز میں فیصلہ کروایا۔‘

قرارداد پیش کرنے والے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی سے دوبارہ رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اپنی وضاحت میں بتایا کہ ’میری قراردار نیشنل ہالی ڈے کے لیے تھی، بھارت میں عید پر چھٹی ہو سکتی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ میں نے تقریر میں یہی کہا کہ عید کے دن کو ہم بھی مناتے ہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ سردار یوسف کی عید ہے یا رمیش کی۔ میں چاہتا ہوں کہ جب ڈاکٹر رمیش کی دیوالی ہوں تو یہ لگے کہ یہ سردار یوسف کی دیوالی ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ’ بحث ہوئی اور سردار یوسف نے کہا کہ قومی چھٹیاں پہلے ہی بہت ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ مطالبہ جائز ہے۔‘

بعد میں رکنِ اسمبلی مریم اورنگزیب نے کہا کہ اقلیتوں کو چھٹی دے دی جائے جس کے بعد قومی چھٹی کے بجائے اقلیتی برادری کے لیے چھٹی کی قرارداد پاس ہوئی۔

اسی بارے میں