نثار مورائی ریمانڈ پر رینجرز کےحوالے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رینجرز نے نثار مورائی کو 90 روز کے لیے نظر بند کردیا ہے

کراچی میں رینجرز نے فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی کےسابق چیئرمین ڈاکٹر نثار مورائی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

رینجرز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر نثار مورائی دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے ساتھ دہشت گردوں کی مبینہ طور پر مالی مدد بھی کرتے تھے، اس کے علاوہ ان سے لیاری گینگ وار کی فنڈنگ کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔

سپریم کورٹ کا رینجرز کو اختیارات دینے سے انکار

رینجرز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مندرجہ بالا الزامات کے تحت رینجرز نے نثار مورائی کو 90 روز کے لیے نظر بند کردیا ہے، عدالت نے ان کی نظر بندی کی اجازت کے ساتھ سندھ حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ 15 روز کے اندر جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تشکیل دی جائے۔

رینجرز کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ نثار مورائی غیر قانونی طریقے سے کمائے گئے پیسے لانچوں کی مدد سے بیرون ملک منتقل کرنے میں بھی ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیر پیٹرولیم اور آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین کے کراچی آپریشن کی زد میں آنے کے بعد نثار مورائی منظر سے غائب ہوگئے تھے چند روز قبل ان کی اسلام آباد سے گرفتاری کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

ڈاکٹر نثار مورائی بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی شخصیات کے قریب رہے ہیں اور انہیں سیاسی بنیادوں پر ہی فشرمین کوآپریٹو سوسائیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کا قیام 1945 میں آیا تھا، جس کا مقصد مچھلی کے جال کے لیے نائلوں اور کشتیوں کے لیے بیرون ملک سے انجن کی درآمدات شامل تھا اور اس وقت اس کا دفتر لیاری کے علاقے کھڈہ مارکیٹ میں ہوتا تھا۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کو ایک بورڈ چلاتا ہے جس کے گیارہ اراکین ہیں، جن میں سات کو فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی نامزد کرتی ہے جبکہ 8 ڈائریکٹرز کے نام صوبائی حکومت کی جانب سے تجویز کیے جاتے ہیں۔

ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سوسائٹی پر سیاسی تسلط 1994 سے ہونا شروع ہوا تھا ورنہ اس ادارے کا کام ماہی گیروں کے لیے سہولیات کی فراہمی اور فلاح تھا۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کی جانب سے 40 سے زائد ایجنٹ تعینات ہیں جو مچھلی کے تاجر اور ماہی گیروں میں سودے کر آتے ہیں مچھلی کی نیلامی میں سے چھ فیصد کٹوتی کی جاتی ہے جو نصف رقم ایجنٹ اور نصف سوسائٹی کے پاس جاتی ہے۔

یاد رہے کہ کراچی کی میں روزانہ ہزاروں من مچھلی کی فروخت ہوتی ہے جس کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک بھی جاتا ہے۔

اسی بارے میں