چلاس کے قریب جھڑپ، دو سکیورٹی اہلکاروں سمیت پانچ ہلاک

Image caption کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں تلاشی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق گلگت بلتستان میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں تین شدت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار ہیں۔

فوج کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر چلاس کے قریب تاریل کی وادی کے گاؤں گیال میں کارروائی کی۔

بیان کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس سے گاؤں میں موجود تین شدت پسند مارے گئے جبکہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والے شدت پسند قراقرم ہائی وے پر سکیورٹی فورسز اور سیاحوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

اس کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں تلاشی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

فوج کی جانب سے یہ آپریشن آرمی چیف کی جانب سے نانگا پربت کے بیس کیمپ میں غیرملکی سیاحوں کے قتل میں ملوث ایک مجرم کی سزائے موت کی توثیق کے دو دن بعد کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں جون سنہ 2013 میں دس غیر ملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

فروری سنہ 2015 میں اس مقدمے میں گرفتار چار ملزمان نے گلگت کی جیل سے فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی اور اس کے دوران جہاں ایک ملزم ہلاک ہوا تھا وہیں دو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں