حکومت نے مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق صدر نے جمعرات کی صبح ساڑھے چار بجے بیرون ملک جانے کے لیے بکنگ کروا رکھی تھی تاہم حکومت نے مداخلت کی اور ان کی بکنگ کینسل کروائی گئی

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کو عدالتی فیصلہ کے بعد ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے تاہم ان کے خلاف موجود کیس جوں کے توں موجود ہیں۔

مشرفی مہرہ بمقابلہ حکومتی مہرہمشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائےآئین شکنی کا مقدمہ مشرف کو حاضری کا حکم

اسلام آباد میں جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ بدھ کو سپریم کورٹ کی جانب سے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دینے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ جنرل مشرف کو ای سی ایل سے آزاد کرنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا۔ سپریم کورٹ سب سے بڑی عدالت ہے اس کے بعد کوئی اور اپیل نہیں ہے۔

انھوں نے تصدیق کی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے بعد سابق صدر نے جمعرات کی صبح ساڑھے چار بجے بیرون ملک جانے کی بکنگ کروا رکھی تھی تاہم حکومت نے مداخلت کی اور ان کی بکنگ کینسل کروائی گئی۔

’ایک اخبار نے یہ خبر بھی چھاپ دی کہ ساڑھے چار بجے غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے جنرل صاحب کی سیٹ بک تھی، جو درست ہے اور وہ باہر جانا چاہتے تھے، جو درست ہے۔ تاہم اس پر حکومت کے واضح احکامات تھے ایف آئی اے نے باقاعدہ مداخلت کی اور پیغام دیا کہ بغیر واضح اجازت نامے کے جنرل صاحب کو باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے کوئی اثرو رسوخ نہیں۔

وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ پرویز مشرف کے وکلا نے ان کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کی درخواست دی ہے اور حکومت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ سابق صدر بیرون ملک علاج کے لیے چار سے چھ ہفتے کے لیے جائیں گے اور واپس آکر اپنے خلاف موجود مقدمات کا سامنا کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ کیسوں کے بارے میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے اور حکومت کو سابق صدر کے وکلا نے بتایا ہے کہ ’پرویز مشرف کا عدالتوں میں پیش ہونے کا پورا ارادہ ہے، عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔‘

انھوں نے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں پرویز مشرف کو آزادانہ باہر آنے جانے کی اجازت تھی’آپ نے پانچ سال حکومت کی، جب آپ نے اسی جنرل مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا تو آپ کا رائٹ ٹو گورننس ختم نہیں ہوا۔ جب آپ نے تمام سیاسی جماعتوں کو جنرل مشرف کو ایمنیسٹی دینے کی تلقین کی تب تو آپ کو یہ باتیں یاد نہیں آئیں، جنرل مشرف پر اس وقت بھی بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام تھا۔‘

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف ایمرجنسی کیس عدلیہ پر حملے کرنے کے باعث تھا۔

انھوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا اس کے ہم نے قانونی پہلو دیکھنے تھے۔

اسی بارے میں