ضیا الحق نہ سہی عطا الحق سہی

تصویر کے کاپی رائٹ Sana Mir
Image caption خواتین کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے میچ میں پاکستان نے انڈیا کو دو رنز سے شکست دی

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 میں شرکت کرنے والی قومی کرکٹ ٹیم کے تمام میچوں کے براہِ راست نشریاتی حقوق پاکستان ٹیلی ویژن کے پاس ہیں۔

کوئی اور پاکستانی چینل یہ میچ براہ راست نہیں دکھا سکتا۔پی ٹی وی کو یہ حقوق مفت میں نہیں ایک خطیر رقم کے عوض ملے ہیں۔

خواتین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی انڈیا پر فتح

کل بھارت اور پاکستان کے درمیان ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دو میچ ہوئے۔پہلا دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں بھارت اور پاکستان کی خواتین ٹیموں کے درمیان ہوا جو پاکستان نے تکنیکی بنیاد پر دو رنز سے جیت لیا۔مگر پی ٹی وی نے اس میچ کی لائیو کوریج مناسب نہیں سمجھی۔سارا دھیان ، زور اور شوں شاں کلکتہ میں پاک بھارت مردانہ معرکے پر مرکوز رہا۔

دہلی میں پاکستان کی غیر متوقع جیت کولکتہ کی متوقع ہار تلے دب گئی۔ پی ٹی وی سمیت ہر پاکستانی چینل پر اف یہ کیا ہوا کی تبصراتی سینہ کوبی ہوتی رہی۔کبھی کبھار خواتین ٹیم کی جیت کا سرسری سا تذکرہ ہو کر بات پھر ہائے واویلا کی جانب مڑ جاتی۔

سوشل میڈیا پر بھی کولکتہ کا ہی قبضہ رہا اور اگر خواتین کرکٹ ٹیم کی جیت کا تذکرہ کسی نے کیا بھی تو بڑے پولے پولے انداز میں۔

وہ جو خود کو کرکٹ کے دیوانے کہتے ہیں ان میں سے کتنوں کو معلوم ہے کہ جب سے پاکستانی مردانہ کرکٹ ٹیم ناکام ہو رہی ہے تب سے پاکستانی لڑکیاں ہر ٹائٹل پر جھپٹ رہی ہیں۔2009 کے سڈنی ورلڈ کپ سے 2010 اور چودہ کے ایشین گیمز گولڈ میڈل تک۔

ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کی طرف سے پہلی سنچری سکور کرنے والی نین عابدی نے اپنے مذہبی خاندان کی بے پناہ مخالفت اور محلے کے لونڈوں کی فقرے بازی کے باوجود کرکٹ گراؤنڈ نہیں چھوڑا اور آج یہی لڑکی علاقے سے گذرتی ہے تو وہی لڑکے احتراماً راستہ چھوڑ دیتے ہیں۔

انعم امین دو سال پہلے قومی ٹیم میں شامل ہوئی تو انڈر 19 یا نیشنل چیمپئن شپ کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔اسے تو سلیکٹرز نے لڑکوں کے مقابلے میں ایک پریکٹس میچ میں پرفارمنس کی بنیاد پر سلیکٹ کیا ۔اور یہی انعم امین ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ویسٹ انڈیز اور پھر بھارت کے خلاف اپنی پرفارمنس پر پلئیر آف دی میچ قرار پائی اور اب انعم کی آنکھیں بنگلہ دیش سے پڑنے والے میچ پر لگی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ICC
Image caption انعم امین دو سال پہلے قومی ٹیم میں شامل ہوئی تو انڈر 19 یا نیشنل چیمپئن شپ کا کوئی تجربہ نہیں تھا

کسی کو یاد ہے گلگت بلتستان کا کوئی لڑکا کبھی ٹیسٹ کرکٹر بنا ہو؟ اس علاقے سے پہلی ٹیسٹ کھلاڑی ڈیانا بیگ ہے اور یہی ڈیانا پاکستان کی قومی خواتین فٹ بال ٹیم کا بھی حصہ ہے۔

اور وہ بچی جس کے بارے میں ٹیکسلا کی گلیوں میں کرکٹ کھیلنے والا ہر لڑکا جانتا تھا کہ 30 گز کا سٹارٹ لے کر جب گیند کرانے دوڑتی ہے تو وکٹ خود ہی پرے ہٹ جاتی ہے۔اس بچی کا پہلا کوچ بھائی اور پہلا سلیکٹر باپ تھا۔

یہ بچی جب یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں پڑھ رہی تھی تو ایک دن پاکستان ویمن کرکٹ کنٹرول ایسوسی ایشن کے ٹرائلز کا اخباری اشتہار دیکھا۔ باپ نے کہا ’انجینیئر تو بہت لڑکیاں بن رہی ہیں۔کرکٹر بہت کم ہیں ۔جاؤ اپنا خواب پورا کرو۔‘

2007 میں اس لڑکی نے ویمن کرکٹ نیشنل چیمپئن شپ میں کراچی کی قیادت کی اور لاہور کو فائنل میں ہرا دیا۔اور جب2009 میں قومی کرکٹ ٹیم کی کپتان عروج ممتاز ریٹائر ہو گئی تو اس لڑکی نے کپتانی سنبھالی۔دنیا آج اسے ثنا میر کے نام سے جانتی ہے۔اور پھر کیپٹن ثنا میر کی ٹیم نے ناکامیوں کی طویل فہرست پھاڑ کے پھینک دی۔

مگر جب کچھ بھی نہیں تھا تب شیزہ اور شرمین تھیں جنھوں نے نوے کی دہائی میں پاکستان ویمن کرکٹ کنٹرول ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی اور کرکٹ کیریر کی خواہش مند ایسی لڑکیوں کی تلاش شروع کی جو رکیک مردانہ جملوں اور دھمکیوں کے درمیان سپورٹس مین سپرٹ دکھا سکیں۔اس نجی ایسوسی ایشن کو بعد ازاں کرکٹ کے ان کھانگڑوں نے بخوشی قومیا لیا جن کا کل تک خیال تھا کہ لڑکی کا کرکٹ سے کیا لینا دینا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جب پاکستانی لڑکیوں نے 2010 کی ایشیئن گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تو وعدہ کیا گیا کہ ایک ایسی سٹیڈیم فیسلٹی بنائی جائے گی جہاں صرف خواتین کرکٹرز پریکٹس کر سکیں۔آج 2016 ہے اور ایسی کوئی سہولت نہیں۔

پاکستانی لڑکیاں فائٹر پائلٹ، سپاہی، ہیوی ڈیوٹی ڈرائیور، سائنسداں، سفارت کار، کرکٹر کچھ بھی بن سکتی ہیں۔جب مائیکروفون سامنے آجائے تو ہر کوئی انہیں سراہتا بھی ہے۔مگر ہم میں سے اکثر آج بھی اندر سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ایسا نہ کریں تو اچھا ہے۔

وہی پی ٹی وی جس نے 1976 کے مانٹریال اولمپکس کی جمناسٹک ہیروئن نادیا کمیونچیو کو گھر گھر متعارف کرا دیا۔جو ویمبلڈن ٹینس کے ویمن سنگلز اور ڈبل دکھانے سے باز نہ آیا ۔آج وہی پی ٹی وی سالم لباس والی قومی کرکٹ ٹیم کے کوریج سے بھی کنی کتراتا ہے۔

ضیا الحق نہیں تو کیا ہوا، پی ٹی وی کے موجودہ چیئرمین عطا الحق سہی۔

ایسے میں تو سراج الحق ( امیرِ جماعتِ اسلامی ) بھی غنیمت ہیں جنھوں نے پاکستانی ویمن ٹیم کو بھارت سے جیتنے پر مبارک باد دی ہے۔

اسی بارے میں