ایوان میں اراکین کی تکرار ’مشرف کا سگار‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قانون سازی کے لیے پاکستان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا لیکن اجلاس کے ایجنڈے کے بجائے سب سے زیادہ بات سابق صدر پرویز مشرف کی بیرونِ ملک روانگی کے بارے میں ہوئی۔

سوموار کو بلوائے گئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں سات بلوں کی منظوری دینی تھی۔جس میں متنازعہ قانون قومی ایئر لائن کی نجکاری کے علاوہ غیرت کے نام پر قتل اور گھریلو تشدد کے خلاف بل منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں چوتھی بار ہے کہ قانون سازی کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے اپنی بات سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پوائیٹ آف آڈر کے فرق پر شروع کی لیکن ان سے رہا نہیں گیا اور انھوں کہا کہ قانون کی بات ہو رہی ہو تو

سپیکر قومی اسمبلی نے ان کی دھواں دار تقریر کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ ’ٹھیک ہے۔ مشرف صاحب صحت یاب ہیں۔ سگار پی رہے ہیں لیکن آپ اپنے نقطعے سے ہٹ گئے ہیں۔

اس پر ہم قومی اسمبلی کے عام اجلاس پر بحث کرشاہ محمود قریشی نے پرویز مشرف کے بیرونِ ملک جانے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین اور قانون کی ہی کی تو بات کر رہے ہیں تو کچھ دیر بعد اُن کا مائیک بند کر دیا گیا۔

یہ سب وزیراعظم کی موجودگی میں ہی ہوا جو سب کچھ خاموشی سے سنتے رہے۔

نماز مغرب کے وقفے کے بعد وزیراعظم نواز شریف ایوان میں آئے تو اُن کی گرد بھیٹر لگ گئی۔ کافی عرصے کے بعد وہ قومی اسمبلی میں تشریف لائے تھے۔

اپنے دائیں جانب بیٹھے قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف خورشد شاہ سے مصحافہ کیا۔

خورشید شاہ نے بھی سابق صدر پرویز مشرف کی روانگی اور دبئی میں اُن کے سگار کے کش پر حکمراں جماعت پاکستان جماعت آڑے ہاتھوں لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’مشرف صاحب کچھ بے وقوف آدمی ہیں۔ یہاں انھیں آکسیجن لگانی پڑتی ہے اور دبئی جا کر سگار پی رہے ہیں۔‘

خورشید شاہ نے کہا کہ ’قانون منظور کرنے کے لیے بلایا ہے لیکن قانون اور آئین شکن کو ملک سے باہرجانے دیا۔‘

ایوان میں 20 منٹ روکنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف چلے گئے تو اُن کے جانے کے بعد قائدِ حزب اختلاف نے طویل تقریر کی۔ انھوں نے نون لیگ کے کئی وزرا اور اراکینِ اسمبلی کے بیانات دہرائے۔ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مشرف کو کسی طرح بھی ملک سے باہر جانے نہیں دیا جائے گا۔

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کئی بار استفسار کیا کہ سابق فوجی صدر کے بارے میں بات جمعرات سے شروع ہونے والی قومی اسمبلی کے عام اجلاس میں بھی ہو سکتی ہے لیکن خورشید شاہ اپنی بات کہتے چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty

’جون 2013 میں وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس ایوان کو اعتماد میں لیا اور بتایا کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلے گا۔ تو قومی اسمبلی کو جانے کے بارے میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم تو کمزور لوگ تھے۔ ہم شیر نہیں ہیں اور نہ ہی ہم نے دعوے کیے۔‘

خورشید شاہ کو جواب دینے کی ذمہ داری وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سنبھالی۔ سپیکر سے اجازت لی کہ قانون سازی کی جانب بڑھنے سے پہلے وہ اس پر مختصر بات کرنا چاہتے ہیں۔ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اُن کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ جواب کا موقع تو دینا چاہیے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ’آپ کے پانچ سالوں میں پرویز مشرف تو کھلے عام پاکستان سے آ جا رہے تھے۔پیپلز پارٹی سپریم کورٹ میں اس مقدمے میں فریق کیوں بنی جس میں پرویز مشرف کو ملک سے جانے کی اجازت دی گئی؟

آپ جمہوریت کے چیمپیئن بن رہے ہیں لیکن بے نظیر کے قتل کیس میں پرویز مشرف کا نام ایف آئی آر میں ہم نے شامل کیا۔ اُس وقت آپ کی خاموشی مجرمانہ تھی۔‘ سپیکر قومی اسمبلی نے بار بار بحث کو قانون سازی کی طرف لانے کی کوشش کی۔

گیس کی چوری پر قابو پانے کے لیے بل تو آخر کار منظور ہو ہی گیا لیکن چھ دیگر قوانین پر بحث اور ان کی منظوری ابھی باقی ہے۔

اسی بارے میں