پی آئی اے کی نجی کاری پر اختلافات برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشترکہ اجلاس زیادہ دیر نہ چل سکا

پاکستان میں قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نج کاری اور غیرت کے نام پر قتل جیسے قوانین میں چھ ترامیم کے لیے طلب کیا گیا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس مزید مشاورت کے فیصلے کے ساتھ ختم ہوگیا ہے۔ ایوان نے اس مشاورت کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ ایوان اب گیارہ اپریل کو ان بلوں کو قانون سازی کرے گا۔

حکومت نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس تو طلب پی آئی اے کے لیے کی جانے والی مشکل اور پیچدہ قانون سازی کے لیے کیا تھا لیکن کل کا اجلاس محض گیس کی چوری سے متعلق ایک بل کی منظوری دے سکا۔ باقی کے ساڑھے تین گھنٹے کے اجلاس میں سابق فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیے جانے پر سیاسی لے دے ہوتی رہی۔

توقع تھی کہ منگل کے اجلاس میں باقی کے چھ بل منظور کر لیے جائیں گے لیکن یہ آج (منگل) بھی نہ ہو سکا۔ اجلاس تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے شروع ہوا اور محض تیرہ منٹ جاری رہا۔ بظاہر حزب اختلاف کے اصرار پر حکومت نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے ان مجوزہ ترامیم پر مزید غور کے لیے دس رکنی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ سنایا۔

اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف اور سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے شرکت نہیں کی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایوان کی منظوری کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے دس اراکین کے نام پڑھ کر سنائے۔

کمیٹی سات اپریل تک اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے گی جس کے بعد پارلیمان کا مشترکہ اجلاس گیارہ اپریل کو اس پر غور کر کے اس کی منظوری دے گا۔ مزید مشاورت کے لیے کمیٹی کے اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے عددی برتری کے باوجود ان متنازع چھ ترامیم پر اتفاق رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی فضائی کمپنی کی نج کاری پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو اب بھی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں