جنرل راحیل وزیرستان میں، شوال آپریشن میں پیشرفت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آرمی چیف نے عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کی واپسی کا عمل طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق اگلے ماہ تک مکمل کرنے کا حکم بھی دیا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے آخری مرحلے میں اچھی پیش رفت ہو رہی ہے۔

انھوں شمالی و جنوبی وزیرستان کے مکینوں کی واپسی کا عمل رواں برس مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ شوال میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 19 مسلح شدت پسند اور ایک افسر سمیت چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

جنرل راحیل شریف نے منگل کو شمالی وزیرستان کا دورہ کیا اور وہاں جاری فوجی آپریشن کا جائزہ لیا اور قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ شوال میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے دوردراز علاقوں کو کلیئر کیا جا رہا ہے جبکہ آخری مرحلے میں 650 مربع کلومیٹر کا علاقہ پہلے ہی کلیئر ہو چکا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق قبائلی عمائدین نے علاقے میں امن کی بہتری پر خوشی کا اظہار کیا اور آرمی چیف سے کہا کہ فوج کو علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی دوبارہ آبادکاری اور علاقے کی تعمیرِ نو تک یہاں سے نہیں نکلنا چاہیے۔

بتایا گیا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے 52 فیصد افراد گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔ اس تعداد میں 19 فیصد کا تعلق جنوبی جبکہ 36 فیصد کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے۔

آرمی چیف نے عارضی طور پر بے گھر ہونے والوں کی واپسی کا عمل طے شدہ مدت کے مطابق رواں برس کے اندر اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن ضرب جون 2014 میں شروع کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں