فاٹا کی اقلیتی برادری کا پہلا ڈومیسائل

Image caption ایک حالیہ سروے کے مطابق تمام فاٹا میں اقلیتی برداری کی آبادی 50 ہزار نفوس پر مشمل ہے جن میں اکثریت سکھوں کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں عرصہ دراز سے مقیم مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی اقلیتی برادری کو ہمیشہ سے ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔

تاہم ان غیر مسلم خاندانوں کی مشکلات میں اس وقت بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا جب فاٹا میں شدت پسندی عروج پر جا پہنچی جس کی وجہ سے بیشتر غیر مسلم خاندان گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر بے گھر ہونے پر مجبور ہو گئے۔

لیکن اب حکومت نے فاٹا سے تعلق رکھنے والی اقلیتوں کو آہستہ آہستہ قومی دھارے کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک مسیحی طالب علم شہریار مسیح کو ڈومیسائل جاری کیا ہے۔ شہریار مسیح کے والد اور پاکستان مائینارٹی الائنس فاٹا کے صدر ملک ارشد مسیح کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے تقریباً 100 سال قبل اپنے حقوق کی جد وجہد شروع کی تھی جو بالآخر رنگ لے ہی آئی۔

انھوں نے کہا کہ ان کے دادا چراغ مسیح نے 1914 میں خیبرایجنسی میں سکونت اختیار کی اور اس کے بعد سے ان کا خاندان مسلسل اس علاقے کا رہائشی ہے۔

ان کے مطابق اس سے پہلے وہ کہیں نوکری کے لیے درخواست دیتے تو سب سے پہلے ان سے ڈومیسائل کا مطالبہ کیا جاتا تھا جس سے اکثر مایوسی ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے فاٹا میں مقیم تمام اقلیتوں کو رہائشی سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا تھا جس کے ذریعے سے وہ کسی سرکاری نوکری کے لیے درخواست دے سکتے تھے، لیکن اس دستاویز کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور نہ ہی سرکاری اہلکار اسے قبول کرنے کےلیے تیار تھے جس سے تمام غیر مسلموں کی حق تلفی ہوتی رہی۔

انھوں نے کہا کہ ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ بن جانے سے اب غیر مسلم طلبہ تعلیمی اداروں میں کوٹے کی سیٹ پر داخلہ لے سکتے ہیں اور نوکری کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال اس وقت کےگورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ فاٹا میں مقیم اقلیتوں کو قبائلی ملک کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت اب تک حکومت کی جانب سے خیبر ایجنسی میں غیر مذاہب سے تعلق رکھنے والے دس کے افراد کو قبائلی ملک کا درجہ دیا تھا۔ جن میں تین مسیحی اور سات سکھ برادری کے افراد شامل ہیں۔

ملک کا درجہ حاصل کرنے والوں میں ارشد مسیح بھی شامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم کی طرف سے کیے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق تمام فاٹا میں اقلیتی برداری کی آبادی 50 ہزار نفوس پر مشمل ہے جن میں اکثریت سکھوں کی ہے جبکہ مسیحی برادری دوسرے نمبر پر آتی ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں قیام پاکستان کے وقت سے اقلیتوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر رہی ہے۔ تاہم سنہ 2007 اور 2008 میں جب شدت پسندی کے واقعات بڑھنے لگے اور ساتھ ساتھ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا جس سے اکثریتی اقلیتی آبادی علاقہ چھوڑ کر پشاور اور دیگر شہروں میں بے گھر ہونے پر مجبور ہوئی۔ فاٹا میں سکھوں اور مسیحی برادریوں کے علاوہ ہندو کمیونٹی کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد مقیم رہی ہے۔

اسی بارے میں