’را‘ کی مداخلت پر بات ہوئی: آئی ایس پی آر

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption سنیچر کو ایرانی صدر حسن روحانی اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی تھی

پاکستانی فوج کا اصرار ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات میں پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مداخلت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کےداخلی معاملات خصوصاً پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مداخلت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر آئی ایس پی آر کے ترجمان نے دو مرتبہ اپنے پیغامات کو پوسٹ کیا۔ پہلی ٹوئٹس میں را کی مداخلت کے حوالے سے بات چیت کے بارے میں بتایا گیا تاہم ایرانی صدر کی پریس کانفرس کے بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان کی ٹوئٹس میں نہ صرف را کی مداخلت کا ذکر ملا بلکہ ایرانی سرزمین کے استعمال کے حوالے سے بھی بتایا گیا۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر سے ملاقات میں را کی پاکستان میں مداخلت، خاص طور پر بلوچستان میں اور کبھی کبھی ہمارے برادر دوست ایران کی زمین کا استعمال کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی سے جب سنیچر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی مدخلت کے حوالے سے ایک سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جب بھی پاکستان کے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو اس قسم کی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ ہم نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔‘

تاہم حسن روحانی کے اس بیان کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر سے ملاقات میں کہا کہ ’بھارت پاکستان کے اندر، خصوصاً بلوچستان میں درا اندازی میں ملوث ہے اور بعض اوقات وہ ہمارے برادر ملک ایران کی سرزمین کو بھی استعمال کرتا ہے۔ میری درخواست ہے کہ انھیں اس قسم کی سرگرمیوں سے روکا جائے تاکہ پاکستان استحکام کی جانب بڑھ سکے۔‘

اس سے قبل سنیچر کو ایرانی صدر حسن روحانی اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ملاقات کی تھی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر کے ساتھ پاکستان کودرپیش چیلنجوں کو اجاگر کیا۔

ملاقات میں پاکستان کےداخلی معاملات خصوصاً پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکی مداخلت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے علاقائی سلامتی، پاک ایران تعلقات اور سرحدی سیکورٹی اور روابط سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقعے پر ایرانی صدر نے پاک فوج اور آپریشن ضرب عضب میں اس کی نمایاں کامیابیوں کو سراہا۔