’سب کے سامنے ڈی چوک خالی کروایا جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ سیاست کے لیے کسی کو لاشیں فراہم نہیں کریں گے

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے مذہبی تنظیم کے افراد سے بات چیت اگر منطقی انجام تک نہیں پہنچتی تو کل صبح میڈیا کے سامنے آپریشن کیا جائے گا اور ڈی چوک کو خالی کروایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ’دھرنا دینے والے افراد سے اب تک سیاسی سطح پر نہ کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہوگی، ان کی صرف انتظامیہ سے ہی بات ہوئی ہے اور انتظامیہ ہی ان سے بات کرے گی۔ ‘

’ریڈ زون خالی کر دیں، مظاہرین کو نئی ڈیڈ لائن‘

* دھرنے میں فوج کی ہی ضمانت کیوں؟

ان کے بقول ’میڈیا میں جو اطلاعات آ رہی ہیں کہ کچھ اکابرین کے توسط سے مذاکرات کیے جار رہے ہیں ایسا نہیں ہے۔ کچھ لوگ کراچی سے خود آئے اور انھیں صرف انتظامیہ سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔‘

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا اگر معاملہ طول پکڑتا ہے تو رات گئے کارروائی نہیں کی جائے گی۔

’اگر ایک گھنٹے میں معاملات منتقی انجام تک نہیں پہنچتے تو کل صبح سب کے سامنے دن کی روشنی میں میڈیا کے سامنے آپریشن کیا جائے گا اور ڈی چوک کو خالی کروایا جائے گا۔‘

’آپریشن کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہے لیکن اس کا حکم دینے سے پہلے وہاں موجود معصوم لوگوں کا خیال کرنا ہے جنھیں ناموسِ رسول کے نام پر لایا گیا ہے۔‘

وزیرِ داخلہ نے مزید کہا کہ ’میں نے اس معاملے کو جلد ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وہاں بزرگ لوگ بھی ہیں یہاں بھی ایک بزرگ وہیل چیئر پر ہیں انھیں نکالنے کلی بات کی گئی لیکن انھوں نے انکار کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیڑ داخلہ کے بقول ماضی کے دھرنے میں خواتین بچوں اور آج بزرگوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا

ماضی کے دھرنے میں خواتین بچوں اور آج بزرگوں کو انسانی ڈھال بنایا گیا۔

انھوں نے میڈیا کو ڈمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ماضی میں ایک دھرنے کو اتنی ہوا دی کہ یہ قابو سے باہر ہوا۔

انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کل ہر صورت میں ڈی چوک کو خالی کراویا جائے گا اور آئندہ یہ ممکن بنایا جائے گا کہ کوئی گروہ اسلام آباد کو اس طرح یرغمال نہ بنائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیاست کے لیے لاشیں فراہم نہیں کریں گے۔‘

چوہدری نثار کے بقول کسی بھی آپریشن کی صورت میں پولیس کے کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں ہوگا۔ ’آج یا کل جب بھی آپریشن ہوا کوئی اہلکار مسلح نہیں ہوگا۔‘

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا ’اس سے پہلے بھی اسلام آباد میں ہزاروں لوگوں نے دھاوا بولا اس وقت بھی پولیس کو غیر مسلح رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔‘

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’ہم ایٹی طاقت ہیں۔ یہاں ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ یہاں کوئی گروہ آئے اور ایک جگہ پر قبضہ کر کے پورے ریاستی نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے۔‘

چوہدری نثار کا کہنا تھا کے قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انھوں نے دھرنے کے باعث سکیورٹی مقاصد کے لیے موبائل فون سروس معطل کیے جانے پر معذرت کی۔

واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے حامیوں کا دھرنا تین روز سے جاری ہے جبکہ دھرنے کی وجہ سے ریڈ زون اور اس کے اطراف میں موبائل فون کی سہولیات بھی معطل ہیں۔

اسی بارے میں