اسلام آباد میں حکومت سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ سیاست کے لیے کسی کو لاشیں فراہم نہیں کریں گے

پاکستان کی پارلیمینٹ کے سامنے دھرنا دینے والے مظاہرین کے قائدین اور حکومت میں مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے مظاہرین کو اُن کے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مذاکرات وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی رہائش گاہ پر ہوئے جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مذہبی امور کے وزیر مملکت پیر حسنات شاہ کے علاوہ مظاہرین کے نمائندے بھی موجود تھے۔

’ریڈ زون خالی کر دیں، مظاہرین کو نئی ڈیڈ لائن‘

* دھرنے میں فوج کی ہی ضمانت کیوں؟

مظاہرین کے مطالبات

اہلکار کے مطابق مظاہرین کی طرف سے جو مطالبات حکومت کو پیش کیےگئے تھے اُن میں توہین مذہب کے قانون میں کوئی ترمیم نہ کرنا، مظاہرین اور قائدین پر درج کیے گئے مقدمات کی واپسی اور اُن کی رہائی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی سمیت توہین مذہب کے مقدمے میں عدالتوں سےسزا پانے والے افراد کی سزاؤں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت کی طرف سے ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تحریری معاہدہ نہیں ہوا

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے مظاہرین کو اُن کے مطالبات تسلیم کرنے کی یقینا دہانی نہیں کروائی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ کوئی بھی حکومتی نمائندہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے مظاہرین کے پاس نہیں گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پارلیمنٹ ہاوس اور ریڈ زون میں کسی بھی سیاسی جماعت یا دیگر افراد کو مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس ضمن میں یہ تجویز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مظاہرے کے دوران صرف اسلام آباد اور راولپنڈی میں 1070 افراد کو گرفتار کیا گیا اور تحقیقات کے بعد قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے والوں کو ایک ایک کر کے رہا کیا جائے گا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مظاہرین کو مہلت کے بعد کارروائی کی تیاریاں

اس سے پہلے بدھ کی صبح سینکڑوں مظاہرین کو اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے ایک گھنٹے میں جگہ خالی کرنے کی ایک اور مہلت دی گئی جس کا اعلان اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے میگا فون کے ذریعے کیا گیا۔

اس ملہت کے بعد پولیس اہلکاروں اور ایف سی اہلکاروں کو دھرنے کے خلاف کارروائی کے لیے تیاریاں کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

جو سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی پوزیشنز سنبھالیں تو اسی دوران مظاہرین کے قائدین کی حکومت سے مذاکرات کے لیے روانہ ہونے کی خبریں سامنے آئیں اور اس کے کچھ وقت کے بعد مذاکرات شروع ہونے اور بعد میں مظاہرین کے کامیاب ہونے کی خبریں میڈیا میں آنا شروع ہوئیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نےگذشتہ رات کہا تھا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے مذہبی تنظیم کے افراد سے بات چیت اگر منطقی انجام تک نہیں پہنچتی تو بدھ کی صبح میڈیا کے سامنے آپریشن کیا جائے گا اور ڈی چوک کو خالی کروایا جائے گا۔

اسلام آباد کی پولیس، فرنٹیر کانسٹیبلری اور رینجرز کے اہلکاروں کی 7000 کے قریب نفری کو پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جانے والے راستوں پر تعینات کیا گیا۔

فوج کے دستوں کو پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر تعینات کیا گیا تھا۔ ا

واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے حامیوں کا دھرنا چار روز سے جاری تھا جبکہ دھرنے کی وجہ سے ریڈ زون اور اس کے اطراف میں موبائل فون کی سہولیات بھی معطل رہیں۔

اسی بارے میں