نواز، راحیل تفصیلی ملاقات کا وقت؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان اب تک تقریباً 74ملاقاتیں ہوچکی ہیں

پاکستان کے دل یعنی لاہور پر شدت پسندوں کی جانب سے پہنچائی جانے والی شدید کاری ضرب کے بعد پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائی کا انچارج کون ہے؟ حکومت پنجاب یا اخبارات میں جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف؟

لاہور اور اسلام آباد میں دو اخباری کانفرنسوں نے کم از کم یہ واضح کر دیا کہ فوج کے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی حکومت ان کارروائیوں کا کنٹرول بٹن اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

سیاسی حکومت کے پاس کنٹرول ہے یا نہیں لیکن وہ ظاہر یہی کرنا چاہ رہی ہے کہ اس وقت ڈرائیونگ سیٹ میں وہی ہے۔ آئین اور قانون کے مطابق ہونا یہی چاہیے لیکن پھر یہ ابہامی کیفیت کیوں؟

اس میں کسی شک و شبہ کی بات نہیں کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کے لیے پنجاب سیاسی اور انتخابی طور پر کتنا اہم ہے؟ چاہے سکیورٹی کا معاملہ کتنا ہی سنگین ہو، اپنے حلقہ انتخاب کو شاید سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں میں مکمل طور پر دے کر اسے اوپر نیچے نہیں کرنا چاہتی ہے۔

صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ اور پھر بعد میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا جواب تقریباً ایک سا تھا جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا فوج پنجاب میں کارروائی کر رہی ہے؟ دونوں نے کہا فوج کی جہاں ضرورت ہوگی وہاں حکومت اسے طلب کرے گی لیکن یہ بنیادی طور پر کام پولیس کا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption وزیراعظم اور آرمی چیف کے دورہ بلوچستان کا منظر

پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ دھائی سے یہی دیکھا گیا ہے کہ سکیورٹی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آج فوج ایسے ایسے مقامات تک پہنچ گئی ہے جہاں 2001 سے قبل کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔

خیبر پختونخوا جیسی حکومت اب وفاق سے نیم فوجی ملیشیا رینجرز کی تعیناتی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ عسکری اداروں کی جہاں انتھائی ضرورت ہو وہیں تک محدود رکھا جائے تو یہ بہترین ہے ورنہ مردم شماری جیسا بنیادی کام بھی آٹھ برسوں سے لٹکا رہے گا۔

اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ شہری علاقوں میں پولیس سے بہتر کوئی دوسری آپشن نہیں ہے۔ پولیس ہی پہلا اور آخری حل ہے لیکن کون سی پولیس اس پر بات ہوسکتی ہے۔ ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ اس میں پیشہ ورانہ مہارت اور بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں اسے یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ فوج تو آئے گی پکڑ دھکڑ کرے گی اور چلی جائے گی لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اس سے مسلے حل نہیں ہوتے۔ ایک منظم اور موثر قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ پکڑ دھکڑ کے بعد کی طویل مدتی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے بھی کسی نہ کسی کی ضرورت رہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption پشاور میں سکول حملے کے بعد آرمی چیف اور وزیراعظم اکھٹے زخمی ہونے والے بچوں کی عیادت کے لیے گئے

لاہور اور اسلام آباد کی اخباری کانفرنسوں کے بعد ٹاک شوز میں مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کسی بھی اختلاف کے تاثر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ محض میڈیا کی منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو جہاں کچھ نہیں وہیں کچھ تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقاتوں کی تعداد کے اعتبار سے ریکارڈ ضرور ہے۔ نومبر 2013 میں جنرل راحیل کی جانب سے چارج سنبھالنے کے بعد سے دونوں کے درمیان اب تک تقریبا چوہتر (74) ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ آخری ملاقات پشاور میں ایک بس میں دھماکے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد ہوئی تھی۔

اسلام آباد میں ممتاز قادری کے دھرنے کے تناظر میں بھی اب شاید وقت ہے ایک اور تفصیلی ملاقات کا۔