افغان رہنما کے خلاف جنسی تشدد کا مقدمہ

Image caption افغان شہری ملزم شیر علی نے ایک نوجوان مقامی ڈانسر کو میوزک پروگرام کی دعوت دی تھی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک افغان شہری کے خلاف خاتون ڈانسر کو میوزک پروگرام کے بہانے دعوت دے کر اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ملزم کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے لوئے جرگہ کے رکن رہے ہیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

حیات آباد پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب حیات آباد کے فیز ٹو کے علاقے میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ افغان شہری ملزم شیر علی نے ایک نوجوان مقامی ڈانسر کو میوزک پروگرام کی دعوت دی تھی تاہم بعد میں اسے زبردستی کمرے میں لے جاکر اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ملزم کے ہمراہ ان کے اور ساتھی بھی تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق ڈانسر کی شکایت پر ملزم کے خلاف حیات آباد پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے ملزم کے مکان پر چھاپہ مارا گیا لیکن ملزم اپنے ساتھیوں سمیت فرار ہوگئے ہیں۔

خاتون ڈانسر کی عمر 18 سال بتائی جاتی ہے اور جن کا تعلق پشاور کے علاقے تہکال سے بتایا گیا ہے۔

افغان ذرائع کے مطابق ملزم شیر علی افغانستان کے لوئے جرگہ کے رکن رہے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے سرحد سے ملحق افغان صوبے ننگرہار سے ہیں۔ ملزم کے ایک بھائی ماضی میں افغان جہاد کے وقت مجاہدین کے ایک اہم کمانڈر رہے ہیں۔

اسی بارے میں