چوہے مارنے پر تین سو روپے انعام

تصویر کے کاپی رائٹ Don Mammoser Alamy
Image caption پشاور کی ضلعی حکومت نے چوہوں کی خاتمے کے مہم کا آغاز کرتے ہوئے فی چوہا مارنے پر 50 روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا

پشاور میں ضلعی حکومت کے بعد اب کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے بھی چوہے مار مہم کا آغاز کیا ہے اور فی چوہا مارنے یا پکڑنے پر 300 روپے کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے پشاور کی ضلعی حکومت نے چوہے مارنے پر 50 روپے کا انعام مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ادھر دوسری طرف پشاور میں چوہوں کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے اور تازہ واقعے میں ایک دو سالہ بچی چوہے کی کاٹنے سے زخمی ہوئی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے نائب صدر وارث خان آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے پشاور شہر کے دیگر علاقوں کی طرح کینٹ کی حدود میں بھی زہریلے اور بڑی جسامت کی چوہوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ نے چوہوں کی خاتمے کےلیے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور ضمن میں چوہے مارنے یا پکڑنے والے کو 300 روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کینٹ کی حدود میں ہر گلی اور وارڈ کی سطح پر خصوصی پنجروں کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے تاکہ علاقہ چوہوں سے مکمل طور پر صاف کیا جائے۔

Image caption چوہے کے کاٹے کا شکار ہونے والی بچی کے والد نے کہا کہ اچانک اقصیٰ چیخ کر اٹھی اور جب دیکھا تو اس کی انگلی سے خون بہہ رہا تھا

وارث خان آفریدی کے مطابق انھیں کنٹونمنٹ بورڈ کے سٹشین کمانڈر کی طرف سے فری ہینڈ دیا گیا ہے کہ چوہوں کے خاتمے کےلیے تمام تر وسائل بروکار لائے جائیں تاکہ بیماریاں پھیلنے سے پہلے پہلے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان زہریلے چوہوں سے کئی قسم کی بیماریوں کے پھیلنے کا ِخطرہ ہے اور ان میں سگ گزیدگی یا ریبیز کے جراثیم موجود ہوتے ہیں، جس کا بروقت علاج نہ کرنے کی صورت میں موت واقع ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل پشاور کی ضلعی حکومت نے چوہوں کی خاتمے کے مہم کا آغاز کرتے ہوئے فی چوہا مارنے پر 50 روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پشاور کے ٹاؤن ون کے ناظم زاہد ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے ادارے ڈبلیو ایس ایس پی کی طرف سے چوہوں کے خاتمے کےلیے ایک ِخاص قسم کا زہر تیار کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جن علاقوں میں چوہوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں ایک خاص قسم کا سپرے بھی کیا جا رہا ہے تاکہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

چوہے کے کاٹنے سے زخمی ہونے والی دو سالہ بچی کے والد محمد عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کو سب سو رہے تھے کہ اچانک ان کی دو سالہ بیٹی اقصیٰ چیخ اٹھی اور جب دیکھا تو اُس کی انگلی سے خون بہہ رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ عین اسی وقت ایک بڑا چوہا گھر سے باہر بھاگ نکلا اور گٹر کے پائپ میں غائب ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ بچی کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں ریبیز سے بچاؤ کا انجکشن لگا دیا گیا ہے۔

Image caption پشاور شہر میں چوہوں کی تعداد میں مسلسل اضافے سے شہری خوف زدہ ہو گئے ہیں

پشاور شہر اور آس پاس کے علاقوں میں آج کل شاید ہی کوئی ایسا مقام ہوگا جو چوہوں سے پاک ہو۔ کچھ عرصے سے شہر کے ان مقامات میں چوہوں کی آبادی زیادہ نظر آتی ہے جہاں بازار یا تجارتی مراکز واقع ہیں۔ تاہم اس خاص جسامت کے چوہوں سے شہر کے دفاتر اور گھر بھی محفوظ نہیں رہے جبکہ بعض علاقوں میں لوگ ان سے سخت خوف زدہ اور پریشان نظر آتے ہیں۔

پشاور صدر کے ایک رہائشی اور مسلم لیگ ن کے صوبائی رہنما زبیر الہی کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں اتنے بڑی جسامت کے چوہے پائے جاتے ہیں جو انھوں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔

ان کے مطابق چوہوں کی تعداد میں مسلسل اضافے سے شہری انتہائی خوف زدرہ ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اس ضمن میں کوئی قابل ذکر اقدامات دیکھنے میں نظر نہیں آ رہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خاص قسم کی بڑی جسامت کے چوہے بیرونی ممالک سے پاکستان آنے والے سامان کے کنٹینروں میں یہاں منتقل ہوئے ہیں۔ تاہم کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں یہ چوہے سنہ 2010 میں آنے والے سیلاب میں بہہ کر پشاور اور اطراف کے علاقوں میں پہنچے ہیں۔