ایک کھلبھوشن کافی ہے؟

Image caption ایرانی صدر حسن روحانی 25 اور 26 مارچ کو اسلام آباد میں رہے اور ان دو دنوں میں کھلبھوشن میڈیا پر چھایا رہا

مبینہ بھارتی جاسوس کھلبھوشن جادیو کے اعترافی وڈیو بیان پر اگر یقین کر لیا جائے تو اس کی گرفتاری تین مارچ کو ایران سے پاکستان میں داخلے کے دوران ہوئی مگر پاکستانی میڈیا پر کھلبھوشن کی گرفتاری کی خبر ایرانی صدر حسن روحانی کے طے شدہ دورۂ اسلام آباد سے دو روز قبل نشر ہونی شروع ہوئی۔

ایرانی صدر حسن روحانی 25 اور 26 مارچ کو اسلام آباد میں رہے اور ان دو دنوں میں کھلبھوشن میڈیا پر چھایا رہا۔ دونوں ممالک کے مابین دیگر باہمی امور پر کیا بات چیت یا پیش رفت ہوئی اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

بس یہی بریکنگ نیوز آتی رہی کہ اب کھلبھوشن نے یہ اعتراف کیا ہے اور اب یہ انکشاف کیا ہے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کھلبھوشن سے تفتیش ایرانی صدر کے برابر والے کمرے میں میڈیا نمائندوں کی موجودگی میں ہو رہی ہے۔

اگرچہ یہ خبر بھی ٹی وی سکرینز پر ذرا دیر کے لیے نمایاں ہوئی کہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کھلبھوشن کا معاملہ اپنے ایرانی ہم منصب سے بات چیت میں اٹھایا مگر میڈیا کو تسلی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ کے اس ٹویٹ سے ہوئی کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایرانی صدر سے ملاقات میں کھلبھوشن افیئر اٹھاتے ہوئے زور دیا کہ ایران اپنی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

ایرانی صدر نے اپنے دورے کے اختتام پر پریس کانفرنس میں اس کی تردید کی کہ ایسا کوئی معاملہ زیرِ بحث بھی آیا۔ اس کے جواب میں آئی ایس پی آر کا ایک اور وضاحتی ٹویٹ آیا کہ آرمی چیف نے یہ معاملہ ایرانی صدر کے روبرو اٹھایا تھا۔

ایرانی صدر روحانی کی روانگی کے دو روز بعد اسلام آباد کے ایرانی سفارت خانے سے کم وبیش انہی خطوط پر وضاحتی تنبیہہ جاری ہوئی کہ اس طرح کے پروپیگنڈے سے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ کہ ایران کبھی بھی اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور یہ کہ پچھلے 70 برس میں پاک ایران سرحد سب سے پر امن رہی ہے کیونکہ ایران اسے دوستی کی سرحد سمجھتا ہے۔

لیکن معاملہ یہاں دبنے کے بجائے اور ابھر آیا جب ایرانی سفارتی بیان کے اگلے روز پاکستانی دفترِ خارجہ نے پہلی بار اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے کھلبھوشن کے اعترافی بیان کی روشنی میں ایرانی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے اور چاہ بہار میں مقیم کھلبھوشن کے ایک اور ساتھی راکیش عرف رضوان سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption بیرونی صدور اور وزرائے اعظم جب مہمان ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ میزبان ملک میں ایک طے شدہ پروٹوکول برتا جاتا ہے لیکن صدر روحانی کے دورے میں پروٹوکول طے شدہ کی بجائے تہہ شدہ دکھائی دیا

قطع نظر اس بات کے کہ کھلبھوشن افئیر کتنا سنگین ہے۔ معاملے کو جس طرح گذشتہ ایک ہفتے سے چوک پر مجمع لگا کر ہینڈل کیا جا رہا ہے وہ خاصا غیر معمولی ہے۔ اگر تو اس کا مقصد اندر باہر یہ جتانا ہے کہ اصل انچارج کون ہے تو یہ سب ہی کو پہلے سے معلوم ہے۔

عام طور سے دو ممالک کے مابین ایسے سنگین معاملات کی ہینڈلنگ وزارتِ خارجہ و داخلہ کے توسط سے ہوتی ہے۔

جب چوہدری نثار علی نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے یہ معاملہ ایرانیوں کے روبرو اٹھا دیا تھا تو پھر آئی ایس پی آر کو براہِ راست کودنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا عسکری تشویش کو دفترِ خارجہ کے چینل کے ذریعے ایرانیوں تک نہیں پہنچایا جا سکتا تھا؟

مگر اس معاملے میں دفترِ خارجہ اختیاراتی کاریڈور میں پڑے بنچ پر اونگھتا نظر آیا بالکل ایسے ہی جیسے دفترِ خارجہ کو 34 رکنی سعودی اتحاد کی پیش رفت کے بارے میں ہوا نہیں لگنے دی گئی تھی۔

ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ صدر روحانی کی صرف جنرل راحیل شریف سے ہی بات چیت ہوئی ہے اور وزیرِ اعظم نواز شریف اس فوٹو میں دائیں سے بائیں تیسرے کھڑے رہے ۔

بیرونی صدور اور وزرائے اعظم جب مہمان ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ میزبان ملک میں ایک طے شدہ پروٹوکول برتا جاتا ہے لیکن صدر روحانی کے دورے میں پروٹوکول طے شدہ کی بجائے تہہ شدہ دکھائی دیا۔ یوں محسوس ہوا کہ حسن روحانی ایرانی صدر نہیں بلکہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ ہیں جو پیشہ ورانہ عسکری امور پر تبادلہِ خیالات کے لیے اکثر پاکستان تشریف لاتے رہتے ہیں۔

اگر کھلبھوشن کی گرفتاری تین مارچ کو عمل میں آئی تو کیا کسی سفارتی چینل کے ذریعے تہران کو مشورہ یا پیغام دیا گیا کہ جب تک ایران کی جانب سے اس معاملے کی تسلی بخش وضاحت نہیں آ جاتی بہتر ہوگا کہ صدر روحانی دورے کی تاریخ آگے بڑھا دیں تاکہ ایران اور پاکستان کسی ناخوشگوار باہمی خفت سے بچ سکیں۔

سب کو معلوم ہے کہ پاک سعودی تعلقات کے برعکس پاک ایران تعلقات بہت عرصے سے مثالی نہیں۔ ایران کو سیستان اور بلوچستان میں سرحد پار سے دہشت گردی کی شکایات ہیں اور پاکستان اپنے ہاں فرقہ واریت میں بڑھاوے کا ذمہ دار ایران کو سمجھتا ہے۔ پاکستان کو ایران، بھارت اقتصادی و سٹرٹیجک تعلقات اور گوادر کے قریب چاہ بہار کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی میں بھارتی دلچسپی پر بھی تشویش ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بھارت افغانستان اور ایران کے ساتھ مل کر پاکستا ن کا علاقائی گھیراؤ کر رہا ہے۔

لیکن اس کا مطلب کیا یہ ہے کہ تلخیوں کے کپڑے سفارتی واش روم کی بجائے خبری صحن میں دھوئے جائیں۔

دو روز قبل افغان صدر اشرف غنی نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں جاری غیر اعلانیہ جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔اب ایران سے بھی میچ شروع ہو چکا ہے۔ بھارت تو خیر ہے ہی روایتی دشمن۔

پاکستان کی سرحد چار ممالک سے لگتی ہے۔ اگر چار میں سے تین ہمسائیوں کے ساتھ دنگل چل رہا ہو تو یا ہمسائے خراب ہیں یا پھر اپنی جانب بھی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں