’پاکستان میں ایٹمی مواد کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام موجود ہے‘

Image caption طارق فاطمی کا کہنا ہے کہ پاکستان بھی یہ سمجھتا ہے کہ جوہری ہتھاروں کو کسی صورت غلط ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیے

وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کا ہے کہ جوہری مواد کو کسی صورت غلط ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیے اور پاکستان میں جوہری مواد کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر نظام موجود ہے۔

کیا پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں؟ *’جوہری اثاثوں کی حفاظت پر کوئی مذاکرات نہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس جوہری مواد کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نیو کلیئر ایمرجنسی مینجمنٹ نظام سمیت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر میکنزم موجود ہے۔

یہ باتیں امورِ خارجہ کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی نے واشنگٹن میں امریکی صدر اوباما کی طرف سے دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’نیو کلیئر اینڈ ریڈیولوجیکل ایمرجنسی سپورٹ سینٹر اور نیو کلیئر اینڈ ریڈیویوجیکل ایمرجنسی کوآرڈنیشن سینٹر چوبیس گھنٹے کام کررہے ہیں۔‘

Image caption پاکستان کے جوہری اثاثوں کے محلِ وقوع کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں

طارق فاطمی نے کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ جوہری مواد کو کسی صورت غلط ہاتھوں میں نہیں جانا چاہیے اور پاکستان اس میں شامل ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ریڈیائی ذرائع نجی شعبے، ہسپتالوں، صنعتوں اور تحقیق کے شعبوں میں ہر جگہ استعمال کیے جارہے ہیں۔

جوہری سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدراوباما کا کہنا تھا کہ اب بھی جوہری مواد کے شد پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس حوالے سے گو بہت کام کیا گیا ہے تاہم دنیا میں پلوٹونیم کی مقدار میں کافی اضافہ ہو گیا ہے جس کا تحفظ بہت ضروری ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی سطح پر انٹیلیجنس اطلاعات کے تبادلے کی ضرورت ہے تاکہ دولتِ اسلامیہ جیسے گروہوں کو شکست دی جا سکے۔

پاکستان میں ماضی میں کئی اہم فوجی تنصیبات پر بڑے شدت پسند حملوں کے بعد عالمی سطح پر یہ تحفظات پائے جاتے ہیں کہ آیا پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ بھی نہیں یا نہیں۔ پاکستان اس حوالے سے کئی بار یہ یقین دہانیاں کروا چکا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیار مکمل طور محفوظ ہیں۔

پاکستان کے جوہری اثاثوں کے محلِ وقوع کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان ہتھیاروں کے مختلف حصوں کو علیحدہ علیحدہ جگہوں پر سٹور کیا گیا ہے۔

اب تک امریکی حکام جوہری اثاثوں کے محفوظ ہونے کے بارے میں پاکستان کی یقین دہانیوں کو، بے شک کھلے عام ہی سہی، قبول کرتے رہے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ایسے ہی واشنگٹن کی تشویش بھی بڑھی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے جمعے کو واشنگٹن میں جوہری سلامتی کانفرنس کے موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی۔

ترک وزیر خارجہ نے اس موقعے پر لاہور خود کش دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دکھ کی اس گھڑی میں ترکی کی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستانی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

اس موقعے پر طارق فاطمی نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف 13 ویں او آئی سی سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے ترکی کا دورہ کریں گے۔ سربراہ اجلاس اگلے ماہ استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے جمعے کو واشنگٹن میں جوہری سلامتی کونسل کے موقع پر چین کے وزیر خارجہ وانگ سی سے ملاقات کی۔ چینی وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مستحکم بنانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سی پیک منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اسی بارے میں