فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کا ریکارڈ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption درخواستوں کی سماعت چھ اپریل تک ملتوی کردی گئی ہے

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کے مقدمات اور فیصلوں کا مفصل ریکارڈ طلب کیا ہے۔

پاکستان کے چیف جسٹس نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے پانچ قیدیوں کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ جو مجرمان ملکی آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو پھر وہ ان سزاؤں کے خلاف قانون کا سہارا کیسے لے سکتے ہیں؟

عدالت کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو عام جرم کے طور پر نہ لیا جائے بلکہ بعض ملکوں میں تو ایسے افراد کو عدالتوں سے سزائیں ملنے کے بعد بلا تاخیر تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے قیدیوں کی طرف سے ان سزاؤں کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کی۔

عاصمہ جہانگیر نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جن افراد کو فوجی عدالتوں کی طرف سے موت کی سزا سنائی گئی ہے ان میں سے اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ اُنھیں کس جرم میں سزا دی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان فوجی عدالتوں میں آئین کے سکیشن 10 اے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ملکی آئین کسی بھی شخص کو فیئر ٹرائیل کا حق دیتا ہے لیکن یہاں پر نہ تو ملزموں کو وکیل کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی اُنھیں فوجی عدالتوں کی کارروائی کی کوئی نقول فراہم کی جاتی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ملزموں کو فیئر ٹرائیل کی اجازت نہ دینے سے دنیا بھر میں ملک کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتیں ملکی قوانین کے تابع ہیں اور تمام ملکی ادارے آئین کے تحت کام کر رہے ہیں۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتیں اب جو کام کر رہی ہیں اُنھیں ایک آئینی شق کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملکی آئین بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہر شخص آئین کی پاسداری کا پابند ہے۔

ان درخواستوں کی سماعت چھ اپریل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

اسی بارے میں