بارشوں سے 70 ہلاک، کوہستان میں امدادی کارروائیاں جاری

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن میں حکام کا کہنا ہے کہ کوہستان میں ملبے تلے دب جانے والے افراد کو نکالنے کےلیے امدادی کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

ملبے تلے دبے افراد کو میں سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ چار افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 23 افراد بدستور ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

کوہستان کے ضلعی پولیس سربراہ علی رحمت نے بی بی سی کو بتایا کہ 24 گھنٹوں کی کوششوں کے بعد پولیس کی امدادی ٹیم وادی کندیا کے متاثرہ گاؤں اتور باڑی تک پہنچ گئی ہے جہاں ملبہ ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملبے تلے دبے ہوئے افراد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا وہ زندہ ہیں یا مرچکے ہیں۔

پولیس افسر نے مزید کہا کہ منگل کی صبح سے متاثرہ علاقے تک ہیلی کاپٹر سروس بھی شروع کردی گئی ہے تاکہ امدادی کاروائیوں کو تیز کیا جائے۔

کوہستان سے رکن صوبائی اسمبلی عبدالستار خان کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں کے باعث وادی کندیا تک جانے والے تمام راستے پانی میں بہہ گئے ہیں جس سے متاثرہ علاقے تک جانے کے لیے گاڑیوں کا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مقامی لوگ کئی گھنٹوں کا پیدل سفر انتہائی کھٹن پہاڑی سلسلوں سے کرتے ہوئے اتور باڑی گاؤں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کوہستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے وادی کندیا میں اتور باڑی کے مقام پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب آسمانی بجلی گرنے سے پورا گاؤں پہاڑی تودے کی زد میں آیا تھا جس سے سات کے قریب مکانات ملبے تلے دب گئے تھے۔

ادھر دوسری طرف خیبر پختونخوا اور شمالی علاقہ جات میں جاری حالیہ شدید بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 70 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری طورپر ہلاکتوں کی تعداد 61 بتائی گئی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی طرف سے منگل کی صبح جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طوفانی بارشو ں سے شانگلہ میں 15، کوہستان میں 14، سوات میں 8 ، دیر آپر میں 6، چترال، مردان، بنوں، بٹاگرام دیر لوئر میں دو دو جبکہ مانسہرہ، ملاکنڈ اور چارسدہ میں ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔ بارشوں سے 52 افراد زخمی بھی ہوئے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بارشوں سے صوبہ بھر میں 374 مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہوئے۔

صوبائی حکومت نے بارش سے متاثر ہونے والے افراد کےلیے امدادی پیکج کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت ہلاک ہونے والے افراد کو تین لاکھ روپے، شدید زخمیوں کےلیے ایک لاکھ جبکہ زخمیوں کو پچاس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

ادھر صوبے کے بیشتر متاثرہ علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بارشوں کے باعث زیادہ تر سڑکیں پانی میں بہہ جانے سے راستے بدستور بند ہیں جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں