’انڈیا میں تحقیقاتی کمیشن، پاکستان میں کیوں نہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کریں گے جو بدعنوانی کے خاتمے کا ایجنڈا رکھتی ہیں: شاہ محمود قریشی

قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ’پاناما پیپرز لیکس‘ میں مبینہ طور پر وزیر اعظم کے بچوں سمیت دیگر پاکستانیوں کے نام آنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے منگل کے روز میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک التوا جمع کروائی جائے گی اور سات اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی معطل کر کے اس معاملے کو زیر بحث لایا جائے گا۔

٭ پاناما پیپرز کیا ہیں؟

٭ گاہکوں میں ایران، شمالی کوریا کی کمپنیاں

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اس اجلاس میں شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 میں ہونے والے ضمنی انتحابات میں اُن کی جماعت کی شکست کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس حلقے سے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت پارلیمنٹ میں موجود اُن تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گی جو ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کا ایجنڈا رکھتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر بھارت میں اس معاملے پر تحقیاتی کمیشن بن سکتا ہے تو پھر پاکستان میں کیوں نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اُن کی جماعت نے پاناما لیکس میں آنے والی دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ماہرین سے رابطہ کر کے ایک رپورٹ تیار کرے گی جسے عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاناما پیپرز لیکس سے متعلق حکومتی ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے بچوں نے بیرون ملک کاروبار کر کے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔

اسی بارے میں