سندھی قوم پرست رہنما شفیع کرنانی ہلاک

Image caption شفیع کرنانی زمانہ طالب علمی سے جئے سندھ محاذ سے وابستہ رہے۔

پاکستان کے صوبے سندھ کے سینیئر قوم پرست رہنما شفیع کرنانی فائرنگ کے ایک واقعہ میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ بدھ کو ساڑھے سات بجے کے قریب ٹھٹہ شہر کے قریب مکلی بائی پاس کے قریب پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

شفیع کرنانی کے بھائی حاجی انور کرنانی نے بی بی سی کو بتایا کہ شفیع بچوں کو ٹیوشن پر چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی، انھیں سینے سمیت جسم پر چھ سے سات گولیاں لگیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے مقامی طور پر دو فریقین سے زمین کے معاملات پر اختلافات تھے جن کا برادری سطح پر کئی سال قبل تصفیہ ہوگیا تھا تاہم سیاست کی وجہ سے ان کے بھائی کو دھمکیاں ضرور ملتی رہی تھیں۔

شفیع کرنانی زمانہ طالب علمی سے جئے سندھ محاذ سے وابستہ رہے۔ انھوں نے سنہ 1970 کی دہائی میں مہران انجنیئرنگ یونیورسٹی میں جئے سندھ سٹوڈنٹس فیڈریشن یعنی جساف میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ اس کے مقامی صدر بھی رہے اور کچھ عرصے کے بعد وہ جساف کے مرکزی صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

جئے سندھ قومی محاذ کے مقتول صدر بشیر قریشی اور گل محمد جکھرانی نے جب سنہ 1989 میں جئے سندھ تحریک کی بنیاد رکھی تو اس کے بانیوں میں شفیع کرنانی بھی شامل رہے اس کے بعد وہ اس تنظیم کے مرکزی عہدوں پر بھی کام کرتے رہے۔

حاجی انور کرنانی کا کہنا ہے کہ جب پشتون رہنما خان عبدالغفار خان سندھ کے دورے آئے تو اس موقع پر شفیع کرنانی کو گرفتار کر لیا گیا اور 17 ماہ بعد انھیں رہائی ملی۔ اس کے بعد بھی وہ کئی بار جیل جا چکے تھے۔

جئے سندھ تحریک کے بانی جے ایم سید کے انتقال کے بعد جب جئے سندھ کے تمام دھڑوں کا انضمام کیا گیا تو شفیع کرنانی بھی جئے سندھ قومی محاذ میں شامل ہوگئے اور انھیں سینئر وائس چیئرمین نامزد کیا گیا۔ بعد میں جب عبدالواحد چیئرمین کے عہدے سے مستعفی ہوئے تو شفیع کرنانی نے کنوینر کی ذمہ داریاں ادا کیں۔

جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کو منتخب کیا گیا اور شفیع کرنانی مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے بعد میں نظریاتی اختلافات پر وہ آریسر گروپ میں شامل ہوگئے۔ وہ کچھ عرصہ جے ایم سید کے پوتے جلال محمود شاھ کی جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی میں شمولیت اختیار کی لیکن بعد میں جئے سندھ تحریک میں اپنا الگ دھڑا بنا لیا۔

شفیع کرنانی پاکستان سٹیل ملز میں انجنیئر بھی رہے۔ سنہ 2002 میں کراچی پریس کلب پر احتجاج اور گرفتاری کے بعد انھیں ملازمت سے برخاست کردیا گیا تھا ان دنوں وہ اپنی آبائی زمینیں سنبھالتے تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر قریشی کے پراسرار حالات میں موت واقع ہوئی۔ اور چند سالوں کے بعد نامعلوم افراد نے ایک کار پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی جس کے نتیجے میں بشیر قریشی کے چھوٹے بھائی مقصود قریشی اپنے ساتھی سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں