سپریم کورٹ کی فوجی عدالتی ریکارڈ تک مشروط اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 12 مجرموں کے وکلا کو فوجی عدالتی ریکارڈ تک مشروط اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقدمات میں دی گئی معلومات حساس نوعیت کی ہیں جنھیں کسی طور پر بھی عام نہیں کیا جا سکتا۔

21ویں آئینی ترمیم میں فوجی عدالتوں کو دہشت گردی کے مقدمات میں عام شہریوں کے ٹرائل کرنے کی اجازت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی عدالتوں کا مکمل ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے فوجی عدالتوں سے موت کی سزا پانے والے 12 مجرموں کی طرف سے ان فیصلوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی طرف سے ان مجرموں کے مقدموں اور عدالتی فیصلوں کا ریکارڈ بینچ کے سامنے رکھا گیا۔

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کی ان دستاویزات میں بہت سی حساس معلومات دی گئی ہیں جنھیں کسی طور پر بھی عام نہیں کیا جانا چاہیے۔ اُنھوں نے اشتر اوصاف سے کہا کہ ان مقدمات میں حساس نوعیت کی دستاویزات کی نشاندہی کریں۔

چار مجرموں کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ فوجی عدالتوں میں ان مقدمات کی سماعت کے دوران مجرموں کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دی جاتی۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان مجرموں کے ورثا کو اس وقت ہی معلوم ہو گا کہ اُن کے عزیزوں کو کس جرم میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان دستاویزات میں بعض مجرموں نے اپنے جرم کا اقرار بھی کیا ہوا ہے اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان مجرموں کو معلوم نہیں ہے کہ اُنھیں کس جرم میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کے نوجوان شدت پسندی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرر ہے ہیں اور اُن کی قربانیوں کی کسی طور پر بھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

عدالت نے حکم دیا کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں ان مقدمات کے حوالے سے فوجی عدالتوں کا ریکارڈ مجرموں کے وکلا کو دکھانے کا بندوبست کیا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان دستاویزات کے نہ تو نوٹس لینے کی اجازت ہوگی اور نہ ہی اس کے مندرجات غیر متعقلہ شخص کو بتائے جاسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

اسی بارے میں