آرمی پبلک سکول کے طلبہ کے لیے الوداعی تقریب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ تقریب اسی سکول میں اسی جگہ منعقد ہوئی جہاں 16 دسمبر سنہ 2014 کو شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا

پشاور میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج کے انٹر میڈیٹ کے طلبہ کے لیے ایک الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔

اس سکول پر حملے کے بعد فارغ ہونے والے طلبا کے لیے یہ پہلی تقریب گذشتہ روز منعقد ہوئی۔

یہ تقریب اسی سکول میں اسی جگہ منعقد ہوئی جہاں 16 دسمبر سنہ 2014 کو شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا تاہم اس تقریب میں اس واقعے کا کوئی ذکر بھی نہیں کیا گیا۔

سکول کے طلبہ کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس تقریب کا ایک مقصد اس خوفناک واقعے کو بھلانا تھا۔

اس سکول سے فارغ ہونے والے ایک طالب علم محمد رضوان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تقریب کے بارے میں انھیں پہلے کچھ معلوم نہیں تھا اچانک ہی بتایا گیا تھا اس لیے اس میں بہت کم طالبعلموں نے شرکت کی۔

انھوں نے کہا کہ پرنسپل نے اپنی تقریر میں طلبہ کے لیے نیک حواہشات کا اظہار کیا۔

اگرچہ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد طلبہ کا ایک گروپ انٹرمیڈیٹ کا امتحان دے کرگذشتہ سال اپریل میں سکول سے فارغ ہوا تھا تاہم ان کے لیے کوئی الوداعی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔

اس تقریب کے لیے ذرائع ابلاغ کو بھی نہیں بلایا گیا تھا۔ بس خاموشی سے انٹرمیڈیٹ سال اول کے طلبہ نے سال دوئم کے طلبہ کو رخصت کیا۔

محمد رضوان نے بتایا اس تقریب کو پہلے دو مرتبہ ملتوی بھی کیا گیا تھا لیکن اس کی وجوہات نہیں بتائی گئی تھیں۔

محمد رضوان کے والد محمد ابراہیم کے مطابق اس تقریب سے بچوں کےذہنوں پر ایک خوشگوار تبدیلی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ذاتی مشاہدہ بتائیں تو ان کے بیٹے میں آج واضح تبدیلی ہے کیونکہ سکول حملے کے بعد ان کا بیٹا کئی روز تک ماں کے ساتھ سوتا رہا اور اکثر وہ اداس رہتا تھا لیکن اس تقریب کے بعد اپنے بیٹے کے چہرے پر صحیح معنوں میں خوشی نظر آ رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بچوں کے غیر ملکی دورے ترتیب دیے گئے تھے اس میں سکول انتظامیہ نے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا تھا۔

انھوں نے کہا کہ کچھ طلبہ کو بیرونی دورے کرائے گئے اور کسی کو کہیں بھیجا گیا اگر تمام بچوں کو ایک ساتھ ایک ہی مقام پر لے جایا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور اس سے بچے ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر اس بڑے غم کو آسانی سے بھلا سکتے تھے۔

اسی بارے میں