’نواز شریف کے پاس حکومت کرنے کا اخلاقی جواز نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے ایک بار پھر نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ سے ’قوم سے خطاب‘ کیا جس میں انھوں نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی بجائے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نگرانی میں کمیشن بنایا جائے۔

حکومت کی جانب سے سرکاری ٹی وی پر خطاب کی اجازت نہ ملنے کے بعد اتوار کی شام انھوں نے بنی گالہ میں اپنی رہائش گاہ سے یہ خطاب کیا۔

’قوم سے خطاب کرنا چاہتا ہوں، پی ٹی وہ انظامات کرے‘

عمران خان کے کہا کہ ’سپریم کورٹ کی زیر نگرانی کمیشن میں وائٹ کالر کرائم کے تفتیش کار شامل کیے جائیں اور اس کے لیے بیرونی آڈٹ فرم کو لایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف کے پاس پاکستان کی حکومت کرنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور میں ان سے عوام کی جانب سے استعفے کا مطالبہ کرتا ہوں۔‘

عمران خان نے پاناما لیکس کے معاملے پر نواز شریف پر قوم سے حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’نواز شریف عوام کو گمراہ نہ کریں اور اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ تمام انکشافات ثابت کرتے ہیں کہ ہمارا ملک تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

عمران خان نے انکوائری کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے تحت کمیشن کا مطالبہ کیا۔

Image caption عمران خان نے پاناما لیکس کے معاملے پر نواز شریف پر قوم سے حقائق چھپانے کا الزام عائد کیا

’اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو رائیونڈ میں دھرنا دیں گے اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو نہیں پورے پاکستان کو اکٹھا کریں گے۔‘

انھوں نے پاناما لیکس میں انڈیا سے نام سامنے آنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے وزیر اعظم نے اعلیٰ درجے کی کمیٹی بنائی ہے اور 25 اپریل تک تمام تفصیلات طلب کی ہیں۔‘

’پاکستان کے وزیر اعظم نے پی ٹی پر قومی مسئلہ نہیں بلکہ اپنا ذاتی مسئلہ بیان کیا۔ تو میں اپوزیشن لیڈر ہوں مجھے بھی پی ٹی وی پر اپنا موقف بیان کرنے دیا جاتا۔‘

واضح رہے کہ عمران خان نے اس سے قبل پی ٹی وی پر ’قوم سے خطاب‘ کرنے کا کہا تھا جس کی انھیں اجازت نہیں دی گئی تھی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے آفیشل آکاؤنٹ پر موجود ایک ٹویٹ میں یہ پیغام میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اتوار کی شام چھ بجے قوم سے خطاب کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ 24 اپریل کو پارٹی کا 20 واں یوم تاسیس اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک میں منایا جائے گا اور اس کے بعد اپنے لائحہ عمل پر کام کیا جائے گا۔

اسی بارے میں