’امریکہ کو ہمارے رحم وکرم پر چھوڑ دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کے فی الحال مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی وجہ میدان جنگ میں ان کی کارروائیوں میں تیزی ہے
افغانستان میں ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوششیں بظاہر فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔ طالبان کی جانب سے صاف نہ نے چار ملکی گروپ کی تیاریوں کو بھی بریک لگا دیے ہیں۔ بعض ممالک کو آج بھی پاکستان کی نیت پر شک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان قیام امن کے لیے سنجیدہ ہے لیکن یہ سنجیدگی عملی صورت اختیار نہیں کر پا رہی ہے۔ مذاکرات نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو کیا نقصان ہوسکتا ہے؟ اس کا تفصیلی جائزہ ان تین مضامین میں لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی پہلی قسط حاضر ہے۔

پاکستان کو افغانستان میں اپنے اثرورسوخ میں کمی کا احساس طالبان کی حکومت کے افغانستان میں سنہ 2001 میں خاتمے کے بعد واضح طور پر ہوگیا تھا۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات کافی پیچیدہ اور پوشیدہ رہے ہیں۔ ان کی نویت آج کیا ہے یہ ایک سوال ہے جس کا جواب حاصل کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیان خلیج میں اضافہ ہو رہا ہے۔

افغان طالبان کا اب قطر میں ایک سیاسی دفتر بھی ہے۔ ان سے کوئی حکومت بھی رابطہ دوحا کے پتے پر کرسکتی ہے۔ ماضی کے برعکس جب طالبان کو پاکستانی پراکسی سمجھا جاتا تھا آج ان سے براہ راست تعلق بنانے میں روس بھی سنجیدہ ہے اور امریکہ بھی۔ چین کے ساتھ تو رابطے پہلے سے ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد میں مقیم بعض سفارت کاروں کے خیال میں پاکستان کا طالبان پر یقیناً اثر کم ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری سطح پر پاکستان کہتا آ رہا ہے کہ وہ افغان قیادت کی سربراہی میں مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے

طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر گذشتہ دنوں ایک مضمون میں مذاکرات میں شرکت سے متعلق اپنی موقف واضح کرتے ہوئے قطر دفتر کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ چارملکی کانفرنسز اور مذاکرات کے بارے میں عالمی میڈیا پر زوروشورسے پروپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ طالبان نمائندے امیرالمومنین کی اجازت سے کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ دونوں متضاد حرکتیں ہیں اوراس حال میں ہیں کہ امارت اسلامیہ کے قطر کے سیاسی دفتر سے اس بارے میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ امارت اسلامیہ کی قیادت نے کسی کو بھی ان کانفرنسز میں شرکت کے لیے نمائندہ نہیں بنایا اورنہ ہی امارت اسلامیہ کی قیادت نے ان کانفرنسزمیں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔‘

طالبان کا پاکستان کا نام نہ لیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہمارے پڑوسی اورخطے کے دیگرممالک کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ امریکہ کے تعاون سے ہاتھ اٹھالیں اور اسے ہمارے رحم وکرم پر چھوڑدیں۔۔۔‘

حالانکہ سنہ 2012 میں جاری ہونے والی نیٹو کی ایک رپورٹ کے مطابق جو اس نے چار ہزار گرفتار طالبان، القاعدہ اور دیگر جنگجووں سے پوچھ گچھ کی بنیاد پر تیار کی تھی طالبان کے سنہ 2001 کے بعد بچ جانے میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا کلیدی کردار رہا تھا۔ اس نے اسے مبینہ طور پر پناہ دی اور وسائل اکٹھے کرنے میں مدد دی تھی۔

لیکن گذشتہ دو تین سال سے پاکستان نے کم از کم اپنی سرزمین ان کے لیے کسی حد تک تنگ کرنی شروع کی۔ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کو بظاہر ضرب عضب آپریشن کے ذریعے بےدخل یا نکل جانے دیا گیا۔ ملا برادر اخوند جیسے کئی گرفتار اور کئی رہا بھی ہوئے۔ منقسم طالبان گروہ ایک دوسرے کو آئی ایس آئی کے پٹھو قرار دینے کے علاوہ تقسیم کی وجہ بھی قرار دے رہے ہیں۔ شاید سال دو سال پہلے طالبان آئی ایس آئی کے پتلے قرار دینے کو برا نہیں مناتے تھے لیکن آج کی صورتحال میں نہیں۔ پھر مختلف تـجزیوں کے باوجود پاکستان کا طالبان پر مکمل کنٹرول کبھی نہیں رہا۔ اس کی بڑی مثال ان کے دورے حکومت میں پاکستانی دباؤ کے باوجود ڈورنڈ لائن کو بطور مستقل سرحد کے تسلیم نہیں کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption افغان طالبان کا اب قطر میں ایک سیاسی دفتر بھی ہے

امریکی دورے کے دوران گذشتہ دنوں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا بیان کہ طالبان پر ان کا اثرورسوخ ہے کیونکہ ان کی قیادت اور اہل خانہ پاکستان میں موجود ہیں کافی معنی خیز سمجھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقے کہتے ہیں کہ طالبان یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اپنی نوعیت کا پہلا اعترافی بیان ویسے ہی حادثاثی طور پر نہیں دیا گیا بلکہ اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرماں تھی۔ اس سے قبل پاکستان ان کی ملک میں موجودگی سے صاف انکار کرتا رہا ہے۔

اب ایسا کیا ہوا؟ بعض لوگوں کے خیال میں اس کی وجہ پاکستان کا ان پر اب بھی جزوی کنٹرول ظاہر کرکے اپنی اہمیت برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ”اس بیان کا مقصد یہ بتانا تھا کہ طالبان ابھی پاکستان کے ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں گئے ہیں۔”

سرکاری سطح پر پاکستان کہتا آ رہا ہے کہ وہ افغان قیادت کی سربراہی میں مصالحتی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

افغانستان میں مصالحتی کوششوں پر قریبی نظر رکھنے والے لوگوں کے خیال میں پاکستان کے لیے اپنا بچا کچھا اثر استعمال کرنے کا یہی وقت ہے ورنہ مزید تاخیر بہت دیر کر دی گی۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ سال دو سال میں یہ صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سفارت کاروں کے خیال میں وہ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی جنگی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد مذاکرات کی جانب آئیں گے

طالبان کے فی الحال مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی وجہ میدان جنگ میں ان کی کارروائیوں میں تیزی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگی تیاریوں کی وجہ سے طالبان کا خیال ہے کہ وہ اس موسم بہار اور گرما میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرسکتے ہیں۔ سفارت کاروں کے خیال میں وہ گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی جنگی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد مذاکرات کی جانب آئیں گے۔ لہذا اس بات چیت کی جولائی،اگست کے بعد توقع کی جاسکتی ہے۔

تاہم فی الحال ایک چھوٹے گروپ گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی نے مذاکرات کافی پہلے شروع کر دیے تھے اور اب افغان پیش کونسل کا کہنا ہے 70 فیصد مفاہمت ہوچکی ہے۔ یہ کوئی اتنی بڑی کامیابی نہیں لیکن افغان حکومت کی جانب سے لوگوں کو دیکھانے کے لیے کافی اہم ہے۔

لیکن اگر طالبان جنگی کامیابیاں حاصل کرتے ہیں تو کابل میں افغان اہلکار تنبہہ کرتے ہیں کہ ایسے میں ان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہ سکتے ہیں۔ ماضی اس سلسلے میں اگر کوئی سبق سکھاتا ہے تو وہ یہ کہ ایک مرتبہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے تو پھر کئی کوششوں کے واپس اپنی جگہ پر کبھی نہیں آسکے ہیں۔ اب یہ پاکستان کو سوچنا ہے کہ اس کے لیے بہتر صورتحال کیا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں