شدید زلزلے سے چھ ہلاک، درجنوں زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتوار کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا سمیت انڈیا اور افغانستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے اہلکار کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں چھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

٭پاکستان اور افغانستان میں شدید زلزلہ، ’درجنوں زخمی‘

٭ پاکستان اور افغانستان میں زلزلوں کی وجوہات

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق پی ڈی ایم اے نے صوبہ خیبر پختونخوا میں پانچ ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل بی بی سی سے گفتگو میں این ڈی ایم اے میں پروگرام آفیسر ملک ظہیرالدین نے بتایا کہ مکمل رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی اب تک کی اطلاعات کے مطابق بونیر، خوازہ خیلہ اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک ہلاکت ہوئی۔

ان ک کہنا تھا کہ رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ مالی نقصان بونیر میں ہوا ہے۔

اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخواہ میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان جمیل شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو آنے والے زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث صرف پشاور سے ہسپتال لائے جانے والے زخمیوں کی تعداد 38 ہے۔

جمیل شاہ نے مزید بتایا کہ ان زخمیوں میں پانچ بچوں سمیت پانچ خواتین اور 28 مرد شامل ہیں۔ ان کے مطابق ان تمام افراد کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں جس کے بعد انھیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بعض اطلاعات کے مطابق انڈیا اور افغانستان میں بھی کئی جگہوں پر زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر آگئے

خیال رہے کہ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پاکستان میں اتوار کی دوپہر تین بج کر 29 منٹ پر آنے والے زلزلے کی شدت چھ اعشاریہ چھ تھی۔ جبکہ اس کا مرکز افغانستان میں تاجکستان کی سرحد کا قریبی علاقہ بتایا گیا ہے۔

Image caption انڈیا کے دارالحکومت دلی میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکوں کے باعث لوگ گھروں سے باہر نکل آئے

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے اہلکار ڈاکٹر محمد حنیف کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران وقفے وقفے سے اس شدید زلزلے کے آفٹر شاکس آتے رہنے کا امکان ہے۔

پاکستان کے زلزلہ پیما سینٹر کے مطابق زلزلے کا مرکز کوہ ہندوکش، افغانستان تھا اور اس کی گہرائی 236 کلو میٹر تھی۔

اس کے علاوہ بعض اطلاعات کے مطابق انڈیا اور افغانستان میں بھی کئی جگہوں پر زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ لوگ اپنےگھروں اور دفاتر سے باہر آگئے۔

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں زلزلے کے شدید جھٹکے کچھ سکینڈوں تک وقفے وقفے تک آتے رہے جس کے باعث دلی اور ارد گرد کے شہروں میں لوگ اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نتن شریواستو جو کہ اُس وقت دلی میں میٹرو بس میں سفر کر رہے تھے نے بتایا کہ میٹرو بس کو زلزلے کے باعث عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس زلزلے کا مرکز افغانستان میں تاجکستان کی سرحد کا قریبی علاقہ بتایا گیا ہے

اس سے قبل پاکستان کے زلزلہ پیما سینٹر نے زلزلے کی شدت 7.1 بتائی تھی۔

پاکستان میں اسلام آباد، لاہور، پشاور، راولپنڈی، چترال، سوات، گلگت بلتستان، سمیت ملک کے کئی علاقوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں آنے والے زلزلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر 2015 میں بھی اسی سرحدی علاقے میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں تین سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں