ایم کیو ایم کے کارکنوں کے لیے عام معافی کا مطالبہ

Image caption مصطفی کمال نے 24 اپریل کو باغ جناح میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان کے عسکریت پسندوں کی طرح متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا جائے۔

انھوں نے ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج محمد رضا اور اے پی ایم ایس او کے سابق چیئرمین وحید الرحمان سمیت نصف درجن کارکنوں کی شمولیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا۔

مصطفیٰ کمال نے حکومت سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’یہ ہزاروں لڑکے جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ بن گئے، ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد ہوگئے، جس وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان پابند سلال اور لاپتہ ہیں، خدا کے لیے ان کے لیے کسی پیکِج کا اعلان کریں۔

’یہ لوگ گھروں سے دہشت گرد بن کر نہیں آئے تھے، انھیں الطاف حسین اور تنظیم نے دہشت گرد بنایا ہے، انھیں اپنی اصلاح کا موقع ملنا چاہیے اور ان کے لیے بحالی کے مراکز بنائے جائیں، انھیں واپس والدین اور بچوں کے پاس بھیجیں، ان کے قصور کو معاف کریں، جو بھی قانونی طریقہ ہے اپنایا جائے۔‘

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ان لڑکوں کے پکڑے اور مارے جانے سے الطاف حسین کو کوئی نقصان یا پریشانی نہیں ہوگی۔

’ایم کیو ایم کے کارکن اور ٹیموں والے جانتے ہیں ایک ٹیم سے کام کروانے کے بعد دوسری ٹیم سے انھیں مروایا گیا، جس روز ایک ٹیم اپنا کام کرے گی، دوسرے روز اس کی موت کا پروانہ آ جائےگا۔ میں متنبہ کر رہا ہوں خدا کے واسطے اپنے بچوں پر اب رحم کریں، اب ان خرافات میں نہ پڑیں، اپنے خاندانوں کو دیکھیں، والدین ، بہن بھائیوں اور بچوں کو دیکھیں۔‘

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’اگر ٹیمیں بنانی ہیں تو خود آجائیں قیادت کریں، ہم بھی ان کی ٹیم میں شامل ہو جائیں گے، یا اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بیرون ملک سے بھیج دیں کہ وہ کپتان بن جائیں۔‘

یاد رہے کہ پاک سرزمین پارٹی نے 24 اپریل کو کراچی میں ایک جلسہ عام کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے لیے مصطفیٰ کمال نے رابطہ مہم چلا رکھی ہے۔

اس وقت انیس قائم خانی کے علاوہ، انیس ایڈووکیٹ، ڈاکٹر صغیر احمد، رضا ہارون، افتخار عالم، وسیم آفتاب، بلقیس مختار اور سابق سینیٹر محمد علی بروہی ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں