گرینیڈ یا ڈیٹونیٹر؟ وضاحت کرتے ہوئے بم پھٹ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Burundi Police
Image caption ڈی آئی جی جمیل کا دعویٰ تھا کہ ڈیٹونیٹر میں بہت کم مقدار میں دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے جو دراصل شعلہ دیتا ہے جس سے گرینیڈ پھٹتا ہے

پاکستان کے شہر کراچی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں حادثاتی طور پر دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

پیر کی دوپہر کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شکیل حیدر کی سامنے لیاری گینگ وار کے ملزم ولید کو پیش کیا گیا جس کو کلاکوٹ سے دھماکہ خیزمواد اور اسلحے کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

دوران سماعت ملزم کے وکیل جبار لاکھو کے اصرار پر ڈیٹونیٹر کھول کر دکھایا گیا اس دوران دھماکہ ہوگیا۔ ڈی آئی جی جنوبی جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ڈیٹونیٹر ایک شیشے کے برتن میں موجود تھا جسے جج کے کہنے پر نکالا گیا اور چیک کیا گیا اور اسی دوران دھماکہ ہو گیا۔

ڈی آئی جی جمیل کا دعویٰ ہے کہ ڈیٹونیٹر میں بہت کم مقدار میں دھماکہ خیز مواد ہوتا ہے جو دراصل شعلہ دیتا ہے جس سے گرینیڈ پھٹتا ہے۔

ملزم کے وکیل جبار لاکھو کا کہنا تھا کہ عدالت میں وہ اپنے موکل کے دفاع میں سوالات کر رہے تھے۔

اس کے دوران انھوں نے پولیس کانسٹیبل سے اس بات کی وضاحت طلب کی کہ یہ گرینیڈ ہے یا ڈیٹونیٹر، جس پر پولیس کانسٹیبل نے کہا کہ وہ بہت عرصے تک فوج میں رہے ہیں اور وہ بہت تجربہ کار ہیں۔

جبار لاکھو کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے ڈیٹونیٹر کے بارے میں سوال کیا تو کانسٹیبل نے اسے ہاتھ میں لیا اور کہا کہ یہ کام نہیں کرے گا جس پر انھوں نے مزید معلوم کیا کہ اس کو کس طرح چلاتے ہیں۔

اس پر کانسٹیبل نے پن کھول کر دکھائی۔ جج صاحب نے ان سے پوچھا کہ اس سے کوئی نقصان تو نہیں ہوگا جس پر پولیس کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ یہ صرف ڈیٹونیٹر ہے، لیکن اس کے بعد وہ پھٹ گیا۔

ایڈووکیٹ جبار لاکھو کا کہنا تھا کہ ’یہ بم ڈسپوزل سکواڈ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تحویل میں لیے ہوئے بم کو محفوظ بنا کر اس کی رپورٹ پیش کریں لیکن بی ڈی ایس کا محکمہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہا ہے۔

’عام طور پر بی ڈی ایس کے محکمے کو رپورٹ میں گرینیڈ کی کیمیکل رپورٹ دینی ہوتی ہے کہ آیا اس میں کیمیکل ہے یا نہیں اور انھیں اس بات کی بھی تصدیق کرنی ہوتی ہے کہ واقعتاً یہ چیزیں گرینیڈ یا ڈیٹونیٹر ہیں۔‘

کراچی پولیس کے سربراہ مشتاق مہر نے ’حکام کی غفلت‘ کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے جبکہ ڈی آئی جی ڈاکٹر جمیل احمد کا کہنا ہے کہ جج صاحبان نے بھی انھیں کہا ہے کہ ہم انھیں بتا دیں کہ اس طرح کے کیسوں میں کیا احتیاطی تدبیریں اپنانی چاہییں۔‘

اسی بارے میں